تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 560

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ ہم نے قرآن کریم کے ذریعہ ایسے نشانات نازل کئے ہیں جو خدا تعالیٰ کو بے نقاب کر کے انسان کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔غیروں کے لئے تو خدا تعالیٰ ایک پوشیدہ چیز ہے مگر مسلمانوں کے لئے وہ پوشیدہ چیز نہیں کیونکہ وہ نشانات کے ذریعہ اُن کے سامنے آجاتا ہے۔دوسری مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت عمر و بن العاص ؓ کی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ ابتدائی صحابہ ؓ میں سے تھے اور اپنے باپ سے بہت پہلے مسلمان ہو گئے تھے۔آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی آپ کا طریق تھا کہ آپ مسجد میں بیٹھے رہتے تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلیں اور کوئی بات کریں تو اسے لکھ لیںچونکہ ان کو لکھنا آتا تھا اس لئے وہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھا کرتے تھے مگر بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا میں قرآن کریم لکھواتا ہوں ایسا نہ ہو کہ کوئی لکھی ہوئی چیز دیکھ کر لوگوں کو یہ شبہ پیدا ہو کہ وہ بھی قرآن کریم کا ہی حصہ ہے۔جب اُن کے والد حضرت عمر و ؓ بن العاص فوت ہونے لگے تو یہ اُن کی خبر لینے کے لئے گئے موت کے وقت اُن کی حالت سخت کرب اور اضطراب کی تھی۔کبھی وہ دائیں کروٹ بدلتے اور کبھی بائیں اور کہتے یا اللہ! مجھے معاف کر مجھے معلو م نہیں میں نے کیا کیا گناہ کئے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے کہا۔آپ اتنا گھبراتے کیوں ہیں۔آپ کا انجام تو اچھا ہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق دی۔اور اب تک اسلام پر قائم رکھا۔پھر آپ کو فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔حضرت عمرو ؓ بن العاص کہنے لگے میرے بیٹے تم ٹھیک کہتے ہو۔خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی لیکن کاش میں اُسی وقت مار ا جاتا اور مجھے شہادت نصیب ہوتی۔میرے بیٹے ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ میں لڑائیاں ہوئیں اور میں اُن جنگوں میں حضرت معاویہ ؓ کی طرف سے حصہ لیتا رہا مجھے معلوم نہیں کہ ان لڑائیوں میں مجھ سے کیا کیا غلطیاں ہوئیں۔اس خیال کے آنے پر مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ معلوم نہیں خدا تعالیٰ مجھے معاف بھی کرے گا یا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا میرے بیٹے ! جب میں اسلام کا دشمن تھا تو میری دشمنی کا یہ حال تھا کہ اگر مجھے پتہ لگتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے گلی میں آرہے ہیں تو میں اپنی آنکھیں بند کر لیتا تاکہ مجھے آپ کی شکل نظر نہ آئے۔اور اگر کوئی شخص اُس وقت مجھ سے پوچھتا کہ محمدؐ رسول اللہ کا حلیہ کیا ہے تو میں آپ کا حُلیہ نہیں بتا سکتا تھا کیونکہ جب آپ کی شکل سامنے آتی تھی میں آنکھیں بند کر لیتا تھا۔پھر جب میں ایمان لایا تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا ایمان بخشا کہ آپ کی محبت اور رعب کی وجہ سے میں آپ کے چہرہ پر نظر نہیں ڈالتا تھا بلکہ