تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 556

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى اور اللہ( تعالیٰ) نے ہر چلنے والے جانور کو پانی( یعنی نطفہ) سے پید اکیا ہے۔پس کچھ تو ایسے ہیں جو اپنے پیٹ بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى رِجْلَيْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ پر چلتے ہیں۔اور کچھ ایسے ہیںجو اپنے دو پائوں پر چلتے ہیں۔اور کچھ ایسے ہیں جو اپنے چار پائوں يَّمْشِيْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ پر چلتے ہیں۔اللہ (تعالیٰ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۴۶ اور اللہ (تعالیٰ) ہر ایک چیز پر قادر ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ ہر جانور کو اللہ تعالیٰ نے پانی سے پیدا کیا ہے۔پھر ان جانوروں میں سے بعض اپنے پیٹ پر چلتے ہیں۔اور بعض اپنے دو پیروں پر چلتے اور بعض اپنے چار پیروں پر۔اللہ تعالیٰ جیسی مخلوق چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس میں بتا یا کہ روحانی پانی سے بھی مختلف قسم کے لوگ اپنی استعدادوں کے مطابق طاقت حاصل کرتے ہیں۔بعض تو اپنے پیٹوں پر چلتے ہیں یعنی جب تک اُن کے پیٹ بھرے جائیں اور انعامات ملتے ر ہیں وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ رہتے ہیں اور بعض دو پائے یعنی انسانوں کی طرح اعلیٰ ترقیات حاصل کر جاتے ہیں او ر بعض چوپایوں کی طرح کم عقل ہو تے ہیں۔اور خدا کی طرف کم توجہ کرتے ہیں اور اپنے کھانے پینے کی طرف زیادہ متوجہ رہتے ہیں۔لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى ہم نے کھلے کھلے نشانات اتار ے ہیں اوراللہ (تعالیٰ) جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۴۷ طرف ہدایت دیتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے ایسی آیتیں اتاری ہیں جو حقیقت حال کو کھول کر رکھ دینے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ