تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 52
وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَؒ۰۰۵۱ او ر یہ ( قرآن) ایسی یاددہانی کرنےوالی کتاب ہے جس میں تمام آسمانی کتابوں کی خوبیاں بہہ کرآگئی ہیں اس کوہم نے اتارا ہے پس کیا تم ایسی کتاب کے منکر ہو۔تفسیر۔مُبٰرَکٌ دراصل بِرْکَۃٌ سے نکلاہے اور بِرْکَۃٌ کے معنے گڑھے کے ہوتے ہیں جس میں ارد گرد کاتمام پانی جمع ہوجاتا ہے قرآن کریم کومبارک اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میںپچھلی سار ی صداقتوں اور اعلیٰ درجے کی تعلیموںکو جمع کردیاگیاہے۔فرماتا ہے یہ قرآن جو ساری برکتیںاپنے اندر جمع رکھتاہے اور تورات کی طر ح خدا کویاد دلانے والا ہے ہم نے تجھ پر اتاراہے مگر پھر بھی لوگ اس کاانکار کرتے ہیں اس جگہ چونکہ قرآن کریم کو ذکرکہاگیا ہے اس لئے جہاں خدتعالیٰ نے مومنوں کوذکرا لٰہی کرنےکاحکم دیاہے وہاں اس کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ قرآن کریم کو پڑھو اور اس پرعمل کرو۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ اورہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی صلاحیت اور قابلیت عطا کی تھی اورہم ا س کے اندرونہ سے عٰلِمِيْنَۚ۰۰۵۲اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ خوب واقف تھے جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا مجسمے ہیں جن کے آگے تم بیٹھے رہتے ہو۔الَّتِيْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ۰۰۵۳قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا انہوں نے کہاہم نے اپنے باپ دادوں کو دیکھاتھاکہ وہ ا ن کی عبادت کرتے تھے اس نے کہاتب تم بھی عٰبِدِيْنَ۰۰۵۴قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِيْ ضَلٰلٍ اور تمہارے باپ دادے بھی ایک کھلی گمراہی میں مبتلاتھے۔انہوں نے کہاکیاتو ہمارے پاس ایک حقیقت