تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 550

مذہب میں وہ شامل ہوتے ہیںاس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیںاور خیال کرتے ہیںکہ اس طرح انہیں روحانیت حاصل ہو جائےگی مگر درحقیقت وہ ایک سراب ہوتا ہے جس میںروحانیت کا کوئی پانی نہیں ہوتا وہ ایک غلط اُمیدکے ساتھ اس راستہ پر بڑھتے چلے جاتے ہیںمگر ان کاہر قدم انہیں روحانی پانی سے اور زیادہ دُور کرتاچلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اُن پر روحانی موت وارد ہو جاتی ہے اوروہ خدائی فیوض سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتے ہیں۔گویا مومنوں کے متعلق تو یہ بتایا تھاکہ وہ الٰہی نور کواپنے اندر جذب کرکے خود بھی نور بن جاتے ہیں۔مگر کافر کے متعلق بتا یاکہ وہ ایسے صحرائوںمیںبھٹکتا پھرتا ہے جن سے اُسے کوئی فائدہ حاصل نہیںہوتا۔وہ اپنے دل میںتوفائدہ کی امید رکھتا ہے مگر انجام اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔پھر سراب کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ مومن جب اسلامی احکام پر عمل کرتاہے تو وہ صرف خیالی طور پر یہ نہیں سمجھتاکہ وہ پانی کی طرف جارہا ہے بلکہ اُسے نظر آرہا ہوتا ہے کہ وہ پانی پی رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فیوض اور اس کی برکات سے متمتع ہو رہاہے لیکن وہ لوگ جو جھوٹے مذہب کے پیرو ہوتے ہیں اُن میں سے اگر کسی سے پوچھا جائے کہ تمہیں کچھ ملا بھی ہے تو وہ یہی کہتا ہے کہ ملا تو کچھ نہیں ممکن ہے اگلے جہان میں کچھ مل جائے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے سوا جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیں اُن پر چلنے والے یہی کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد پتہ لگے گا کہ ہمیںکیا ملتا ہے لیکن سچے مذہب کا پیرو اس دنیا میں بتا دیتاہےکہ مجھے یہ کچھ ملا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ(حٰمٓ السجدۃ:۳۱ و ۳۲) یعنی وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ مضبوطی کے ساتھ اس عقیدہ پرقائم ہو گئے اور حوادث کی آندھیاں اُن کے پائے استقلال میں کوئی جُنبش پیدا نہ کرسکیں ایسے لوگوں پراللہ تعالیٰ کے ملائکہ نازل ہوتے ہیںاور وہ انہیں تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیںکہ تم ڈرو نہیں اور نہ کسی پچھلی کوتا ہی پر افسوس کرو بلکہ اُن اعلیٰ درجہ کی کامیابیوں پر خوش ہو جائو جو عنقریب تمہیں ملنے والی ہیں اور جن کا خدا تعالیٰ کی طرف سے تم سے وعدہ کیاگیاتھا۔ہم اس دنیا میںبھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور اُس جنت میں تمہیںوہی کچھ ملے گا جو تمہارے دلوں کی خواہش اور آرزوکے مطابق ہوگا بلکہ جو کچھ تم مانگوگے وہی کچھ تم کو مل جائےگا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ اسلام مومنوں کے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہے کہ اگر وہ سچے دل سے اسلام پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کے مطابق عمل کریں تو اللہ تعالیٰ اُن کو اپنی ہم کلامی کا شرف عطافرماتا ہے اور مصائب کے