تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 549

وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ اوروہ لوگ جنہوں نے کفرکیا اُن کے اعمال سراب کی طرح ہیں جوایک وسیع میدان میںنظر آتی ہے جس کو پیا سا الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ يَجِدْهُ شَيْـًٔا وَّ وَجَدَ پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اُس کے پاس آجاتا ہے تو وہ اُسے کچھ بھی نہیں پاتا۔اوراللہ( تعالیٰ) کو اُس کے اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِۙ۰۰۴۰ پاس دیکھ لیتا ہے۔تب اللہ( تعالیٰ) اُسے اُس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے اور اللہ( تعالیٰ) بہت جلد حساب چکا نےوالوں میں سے ہے۔حلّ لُغَات۔سَرَاب۔سَرَابٌ:مَاتَرَاہُ نِصْفَ النَّھَارِ مِنَ اشْتِدَادِ الْحَرِّ کَالْمَآءِ یَلْصَقُ بِالْاَرْضِ۔دوپہر کو شدت گرمی سے جو میدان میں زمین یوں معلوم ہوتی ہے جیسے پانی ہے اُسے سراب کہتے ہیں۔اور سراب اس کو بھی کہتے ہیںجس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔( اقرب ) قِیْعَۃٌ۔قِیْعَۃٌ قَاعٌ کی جمع ہے اور قَاعٌ کے معنے ہوتے ہیںاَرْضٌ سَھْلَۃٌ مُطْمَئِنَّۃٌ قَدِ انْفَرَجَتْ عَنْھَا الْجِبَالُ وَالاٰکَامُ۔وہ ہموار زمین جس میںپہاڑ اور ٹیلے وغیرہ نہ ہو ں۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے مومنوں کے مقابلہ میںکافروں کے اعمال سراب کی طرح ہیں جس کو بعض دفعہ انسان پانی سمجھ لیتا ہے لیکن جب وہ اس کے پاس آتاہے تو وہاں کچھ بھی نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کو اس کے پاس کھڑاپاتا ہے اور وہ اس کا حساب پائی پائی چکا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جلد جلد حساب چکانے والا ہے۔سراب ریت کے اُس وسیع میدان کو کہتے ہیںجس پرسورج کی جب تیز شعاعیں پڑتی ہیںتو ایسی حرکت پیدا ہوتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دریا ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔عرب اور افریقہ کے ریتلے میدانوںمیںکئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب لوگوںکے پاس پانی نہ رہا تو وہ سراب کودیکھ کر اُدھر چل پڑے مگر جتناچلتے گئے وہ انہیںآگے ہی آگے نظرآتا گیا اور اس طرح وہ صحراء میںکئی میل دُور نکل گئے اور آخر تڑپ تڑپ کر مر گئے۔فرماتا ہے وہ لوگ جوخدا تعالیٰ کے نور کاانکار کرتے ہیںاُن کی مثال بالکل سراب کی طرح ہوتی ہے یعنی جس