تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 548

اگر وہ ملنے کے لئے آتا ہے تو امیر آدمی تکبر سے پیٹھ موڑ لیتا ہے۔یا غصہ اور جوش کی حالت میں اُس سے کہتا ہے تم جانتے نہیں میں کون ہوں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ شخص دولت کمانے کے بعد انسان نہیں رہا بلکہ حیوان بن گیا ہے اور دولت صرف انسان کے لئے جائز ہے حیوان کے لئے نہیں۔لیکن اگر کسی شخص کے پاس دولت تو آجاتی ہے مگر اس کے باوجود اس میں اور دوسرے غریب بھائیوں میں مغائرت کی کوئی دیوار حائل نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو کوئی علیٰحدہ جنس سمجھنے نہیں لگتا۔وہ دوسروں کو تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے نہیں دیکھتا وہ اُن کے ساتھ محبت سے بات چیت کرتا ہے اُن کے دُکھ سکھ میںشریک ہوتا ہے۔اپنے آپ کو کوئی الگ قسم کا آدمی اور غریبوں کو کوئی الگ قسم کے آدمی نہیں سمجھتا تو ایسے شخص کے لئے دولت کمانابالکل جائز ہے۔بارھواں حکم اسلام یہ دیتا ہے کہ مالدارشخص کوچاہیے کہ وہ اپنی موت کے وقت رشتہ داروں کو یہ وصیت کر جائے کہ وہ اس کے مال کاکچھ حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اُس کے غریب بندوں کے فائدہ اور ترقی کے لئے خرچ کردیںچنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںفرماتا ہے۔كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَا١ۖۚ ا۟لْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ (البقرۃ:۱۸۱) یعنی اگر کوئی شخص مرنے لگے اورمال و دولت اُس کے پاس ہو تو وہ کچھ روپیہ غرباء کی بہبودی اور دین کی خدمت کے لئے وقف کردے۔اور اس کی اپنے رشتہ داروں کو تاکید کر جائے اورگو اس آیت کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں کہ رشتہ داروں کو وصیت کرجائے کہ شریعت کے مطابق اس کی جائیداد تقسیم ہو لیکن اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جب کسی شخص کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہو تووہ موت کے وقت ایک حصہ کی غرباء کے لئے وصیت کرجائے اور جہاں کسی آیت کے دو معنے ہو سکتے ہوں وہاں دونوںلئے جائیںگے۔یہ نہیں ہوگا کہ ایک معنے ترک کر دئیے جائیںاور دوسرے معنے لئے جائیں۔یہ بارہ موٹے موٹے احکام ہیں جو قرآن کریم اور احادیث سے معلوم ہوتے ہیں۔اگر کوئی تاجر اور صناع ان اصول کو مدنظررکھتا ہے توگووہ بظاہرکپڑا یا لوہا یا تیل یاکوئی اورچیز فروخت کر رہاہوتا ہے مگروہ ایسا ہی سمجھا جاتا ہے جیسے وہ دین کا کام کررہاہے اوروہ پیسے لے کراپنے گھر واپس نہیںلوٹتابلکہ خدا تعالیٰ کی رضا اوراس کی محبت کا تحفہ لے کر اپنے گھر میںآتاہے۔