تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 547

آتا ہے تو اُس کے سامنے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی لکڑی نہیں۔کوئلہ موجود ہوتا ہے مگر جب کوئی کوئلہ مانگنے کے لئے آتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی کوئلہ نہیں۔شریعت کی رُو سے یہ بالکل ناجائز ہے۔اور ہر شخص جو احتکار کے نتیجہ میں روپیہ کماتا ہے اُسے اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ وہ حرام خوری کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کمانے کے جو جائز ذرائع رکھے ہوئے ہیںصرف ان ذرائع سے کام لینا چاہیے۔ناجائز اور گندے اور ناپاک ذرائع جن کا اسلام دشمن ہے جن سے اس نے بڑی شدت کے ساتھ منع کیا ہے اُن کو اختیار کرنا دین کی ہتک کرنا اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں موردِ غضب بننا ہے۔دسواں حکم اسلام نے یہ دیا ہے کہ تم مزدور کو اُس کا پورا حق دو۔اور پھر وہ حق اپنے وقت پر ادا کرو(سنن ابن ماجہ کتاب الرھون باب أجر الأجراء)۔گویا مزدور کے متعلق اسلام دو حکم دیتا ہے۔اوّل یہ کہ اس کی تنخواہ کام کے مطابق مقرر کرو۔دوسرے یہ نہ کرو کہ وقت پر اُس کی مزدوری ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے لگ جائو۔میں نے دیکھا ہے بالعموم لوگ اس حکم کی پرواہ نہیں کرتے۔وہ مزدور سے پورا کام لیتے ہیں لیکن جب اُن کی تنخواہ یا اُجرت کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو اُس میں تساہل سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن کے دروازہ پر با ر بار آتا اور اپنی تنخواہ کا مطالبہ کرتا ہے۔اس پر بھی وہ اسے اس کا حق ادا نہیں کرتے۔بلکہ کہتے ہیں آج نہیں کل آنا۔کل آتا ہے تو کہتے ہیںپر سوں آنا۔اس طرح بار بار اُسے اپنے پاس آنے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد بھی کسی دن اُسے ایک روپیہ دے دیتے ہیں کسی دن دو روپے دے دیتے ہیں کسی دن چار روپے دے دیتے ہیں گویا اُسے خراب کر کرکے اس کی مزدوری دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مزدوری سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اگر اُسے اکٹھی اجرت مل جاتی تو وہ اپنی ضروریات اکٹھی خرید لیتا اور اِس طرح اُسے فائدہ رہتا۔لیکن چونکہ اُسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اُجرت دی جاتی ہے۔اس لئے اُسے تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے اور پھر اکٹھی اُجرت ملنے سے جو فائدہ اُسے پہنچ سکتا تھا وہ بھی نہیں پہنچتا۔پس اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مزدور کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہ کیا جائے۔اُسے اُس کا حق پورا ادا کرو۔اور پھر عین وقت پر ادا کر و۔یہ نہ ہو کہ وہ اپنے حق کے لئے تمہارے دروازے کھٹکھٹاتا رہے اور تم اُسے بار بار ٹالتے رہو۔گیارھواں حکم اسلام یہ دیتا ہے کہ بیشک تم مال کمائو لیکن دیکھو اس کے نتیجہ میں تمہارے اندر کِبر پیدا نہ ہو۔تمہاری دولت امیر اور غریب میں فرق پیدا کرنےکا موجب نہ بن جائے۔اگر کوئی دولت امیر اور غریب میں اتنا بُعد پیدا کردیتی ہے کہ امیر اپنے غریب بھائی کے ساتھ مل کر بیٹھ نہیں سکتا ایک دسترخوان پر اس کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا۔