تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 540

ٹیکس ادا کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو حکم دیتا ہے کہ وہ بھی ٹیکس ادا کرے۔وہ فرماتا ہے چونکہ تم کسان بنے اور تم نے اس زمین میں زراعت کی جو ساری دنیا کی ہے اس لئے اب تمہارا فرض ہے کہ تم مالک کو اس کا حق دو۔چنانچہ اڑہائی فیصدی ٹیکس اُس سے وصول کیا جاتا ہے اور پھر جو نظام مقرر ہوتا ہے وہ اس ٹیکس کو غرباء کی مدد کے لئے خرچ کرتا ہے لیکن اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ ٹیکس ادا نہیں کرتا یا ادا تو کرتا ہے مگر پورے طور پرا دا نہیں کرتا کسی قدر حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہے تو اسلامی نقطۂ نگاہ سے وہ ایک چور کی حیثیت رکھتا ہے۔بظاہر ایک شخص کپڑے کا تاجر ہوگا لیکن درحقیقت وہ چور ہوگا۔کیونکہ کپڑا آخر کن چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔کپڑا تیار ہوتا ہے روئی سے اور روئی تیار ہوتی ہے زمین سے اور زمین کسی خاص شخص کے لئے نہیں بنائی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے لئے بنائی ہے۔پس جب زمین ساری دنیا کے لئے بنائی ہے اور اُسی زمین سے روئی کی فصل تیار کرکے ایک شخص کپڑے کی تجارت کرتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اس ٹیکس کو ادا کرے جو اس پر عائد ہوتا ہے کیونکہ اُس نے اس چیز سے فائدہ اٹھایا جس میں ساری دنیا کا حصہ تھا اسی طرح زمینوں پر زکوٰۃ کا حکم ہے کیونکہ زمین کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ ساری دنیا کی ہے۔اگر بعض وجوہ سے کوئی ٹکڑا کسی شخص کے قبضہ میں چلا گیا ہے تو بہر حال اُسے غریبوں کو اُن کا حق دینا پڑے گا اور وہ یہ کہہ کر اس ٹیکس سے نہیںبچ سکتا کہ جب میں نے اپنی ذاتی کوشش سے یہ روپیہ کمایا ہے تو میں غریبوں کو اپنے مال کا ایک حصہ کیوں دوں اس لئے کہ اُس نے ذاتی محنت سے روپیہ کمایا۔مگر بہر حال اُس نے روپیہ ایک ایسی چیز سے کمایا ہے جو ساری دنیا کے لئے مشترک تھی اور جس میں غرباء کا حق بھی رکھا گیا تھا۔پس اسلام کی ہدایت کے مطابق اس شخص سے زکوٰۃلی جائیگی اور غرباء پر خرچ کی جائےگی۔اگر کوئی شخص زکوٰۃ نہیں دیتا تو وہ یقیناً چور ہے خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کرکے کپڑے کی تجارت سے روپیہ کمایا ہے خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے لوہے کے کارخانے سے روپیہ کمایا ہے۔خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کرکے مٹی کے تیل کی تجارت سےیہ روپیہ کمایا ہے۔خواہ کسی چیز کی تجارت سے اُس نے روپیہ کمایا ہو اس میں ساری دنیا کا حصہ ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اُس حصہ کو اد اکرے۔اور اگر وہ بغیر اس ٹیکس کو ادا کرنے کے روپیہ اپنے گھر میں لے جاتا ہے تو اسلام اُسے قطعاً مومن کہنے کے لئے تیار نہیں۔ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں چونکہ ٹیکس دوہرا ہوگیا ہے یعنی گورنمنٹ بھی ٹیکس لیتی ہے اور اسلام بھی ایک ٹیکس لیتا ہے۔اس لئے جس چیز پر گورنمنٹ کی طرف سے ٹیکس عائد ہوتا ہے اگر اس کے ٹیکس کی رقم زکوٰۃ کے برابر یا زکوٰۃ سے زیادہ ہو تو پھر زکوٰۃدینا واجب نہیں ہوگا۔مگر اُس کے ساتھ ہی یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ گورنمنٹ جمع شدہ مال پر ٹیکس نہیں لیتی بلکہ آمد پر ٹیکس وصول کرتی