تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 539

جو ہر سال باقاعدگی سے زکوٰۃ دیا کرتا تھا۔مگر اُس کے زکوٰۃ دینے کا طریق یہ تھا کہ وہ زکوٰۃ کا تمام روپیہ ایک گھڑے میں بند کر دیتا۔فرض کرو اس کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہوتا جس میں سے اڑہائی ہزار روپیہ زکوٰۃ دینا اُس پر فرض ہوتا تو وہ اڑہائی ہزار روپیہ ایک گھڑے میں ڈال دیتا اور اُن روپوئوں کے اوپر دو چار سیر گیہوں ڈال کر کسی ملاں کو بلاتا اور اس کی خوب پر تکلف دعوت کرتا۔جب وہ کھانے سے فارغ ہو جاتا تو اُسے کہتا مولوی صاحب اس گھڑے میں جو کچھ ہے وہ میں آپ کی مِلک کرتا ہوں۔لوگوں کو بھی اُس کے اس طریق کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ گھڑے میں اُس نے زکوٰۃ کا روپیہ رکھا ہوا ہے جو اڑہائی تین ہزار روپیہ ہے مگر اُسے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ خود ہی کہتا کہ آپ اس گھڑے کو اُٹھا کر کہاں لے جائیںگے اسے میرے پاس ہی بیچ ڈالئے۔بتائیے آپ اس گھڑے کی کیا قیمت لیں گے۔ملّاں ڈرتے ڈرتے کہ نہ معلوم کس حد تک سودا ہو پانچ دس یا پندرہ روپے بتا دیتا اور وہ جھٹ اتنے روپے نکال کر اس کے سامنے رکھ دیتا اور کہتا کہ مولوی صاحب جو کچھ اس میں ہے وہ آپ نے پندرہ روپے میں مجھے دےدیا ہے یہ کہہ کر وہ گھڑا اٹھا کر اندر رکھ لیتا اور سمجھ لیتا کہ اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے۔تو دنیا میں اس قسم کی دھوکا بازی کرنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے احکام سے تمسخر کرتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو فرض عائد ہوتا ہے اس کو انہوں نے ادا کردیا ہے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کے لوگ تو نہیں مگر ابھی ہماری جماعت میں لوگ پوری احتیاط سے زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔بالخصوص تاجروں میں زکوٰۃ کے معاملہ میں بہت بڑی کوتاہی پائی جاتی ہے۔حالانکہ زکوٰۃ کے متعلق اسلامی شریعت میں اتنے شدید احکام پائے جاتے ہیں کہ صحابہ ؓ کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں رہتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ تم جو کچھ مال کماتے ہو اُس میں دوسرے لوگوں کا بھی حصہ ہے کیونکہ مال جن چیزوں سے کمایا جاتا ہے وہ ساری کی ساری ایسی ہیں جو کسی خاص شخص کی مِلک نہیں۔بلکہ ساری دنیا اُن پر حق رکھتی ہے۔مثلاً تجارت کو لے لو۔تجارت لوہے کی ہوتی ہے یا لکڑی کی ہوتی ہے یا اور بعض چیزوں کی ہوتی ہے۔مگر کیا لوہا اور لکڑی تاجر آپ بناتا ہے ؟اللہ تعالیٰ نے لکڑی بنائی ہے سارے انسانوں کے لئے۔اللہ تعالیٰ نے کوئلہ بنایا ہے سارے انسانوں کے لئے۔اللہ تعالیٰ نے مٹی کا تیل بنایا ہے سارے انسانوں کے لئے۔اللہ تعالیٰ نے کپاس بنا ئی ہے سارے انسانوں کے لئے۔اللہ تعالیٰ نے گندم بنائی ہے سارے انسانوں کے لئے۔مگر جب ایک شخص ان چیزوں سے خاص طور پر نفع کماتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب تمہارا فرض ہے کہ تم مالک کو اس کا ٹیکس ادا کرو۔کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ساری دنیا مالک ہے۔پس جس طرح مزارع اپنے مالک کو