تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 534
کرتا تو وہ یہ حکم دے دیتا کہ تم نے کان کنی نہیں کرنی کیونکہ اگر کان کنی کرو گے تو تمہیں روپیہ حاصل ہوگا اور یا پھر یہ کہا جاتا کہ دنیا میں جس قدر کانوں کے مالک ہیں وہ بے شک مسلمان نہ ہوں اور یا پھر یہ حکم دیا جاتا کہ کانوں کا کھودنا ہی بند کر دیا جائے تا کہ دین کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔یا مثلاً غیر ملکوں سے مال کا لانا ہے۔یہ ایک بڑی فائدہ بخش تجارت ہے اور کروڑوں روپیہ اس تجارت کے ذریعہ کما یا جا سکتا ہے مگر یہ کام بڑے بڑے تاجر ہی کر سکتے ہیں۔دس بیس چالیس یا پچاس ہزار روپیہ سرمایہ بھی اگر کسی شخص کے پاس ہو تو وہ یہ کام نہیں کرسکتا اور نہ اتنے معمولی سرمایہ سے وہ انگلستا ن سے یا امریکہ سے یا فرانس سے یا چین سے یا جاپان سے بڑی مقدار میں مال منگوا سکتا ہے۔کیونکہ غیر ملکوں سے تمام مال جہازوں کے ذریعہ سے آتا ہے اور کوئی معمولی تاجر اس قسم کی تجارت میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔لازماً ایسے ہی تاجر انگلستان سے مال منگوائیں گے یا امریکہ سے مال منگوائیںگے یا فرانس اور جاپان وغیرہ سے مال منگوائیں گے یا جرمنی سے مال منگوائیں گے جن کے پاس دس بیس چالیس پچاس لاکھ روپیہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسے ہی تاجر اس میں حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس کروڑ کروڑ روپیہ ہو۔پس اگر اسلام روپیہ کمانے کی اجازت نہ دیتا تو دو ہی صورتیں ہو سکتی تھیں۔یا تو یہ اعلان کر دیا جاتا کہ اس قسم کی تجارت کرنے والے بیشک مسلمان نہ ہوں وہ تجارتیں کرتے رہیںمگر اسلام قبول نہ کریں کیونکہ اسلام اس قسم کی تجارتوں سے منع کرتا ہے اور یاپھر یہ کہہ دیا جاتا کہ لوگ مسلمان بیشک ہو جائیں مگر اپنی تجارتیں بند کردیں۔آئندہ وہ کوئی مال ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جا سکتے کیونکہ ہمارے مذہب میں یہ بات ناجائز ہے۔لیکن یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں۔نہ تجارتوں کو بند کیا جا سکتا ہے اور نہ ان تجارتوں میں حصہ لینے والوں کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بیشک ہندو یا سکھ یا عیسائی ہی رہیں اسلام میں داخل نہ ہوں۔بہر حال دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کئے بغیر ہمارے لئے کوئی چارہ نہیں ہو گا۔اگر کارخانوں کا کوئی مالک ہمارے پاس مسلمان ہونے کے لئے آتا ہے تو یا تو اُسے یہ کہنا پڑے گا کہ تم اپنے کارخانے کو بند کر دو اور یا پھر اسے یہ کہنا پڑے گا کہ چونکہ کارخانے کو بند کرنا دنیا کی مشکلات کو بڑھا دیتا ہے اس لئے بیشک تم مسلمان نہ بنو۔ہندو یا سکھ یا عیسائی ہی رہو۔یا موٹر کے کارخانے کی مثال لے لو۔ایک ایک موٹر چار چار دس دس بیس بیس ہزار روپیہ میں آتا ہے اور موٹر کا کارخانہ وہی شخص کھول سکتا ہے جس کے پاس دس بیس کروڑ روپیہ موجود ہو۔اگر اسلام دنیا کمانے کی اجازت نہ دیتا اور موٹروں کے کارخانہ کا کوئی مالک ہمارے پاس اسلام قبول کرنے کے لئے آتا تو یا تو ہم اُسے یہ کہتے کہ تم مسلمان نہ بنو کیونکہ اگر تم مسلمان بنے تو دنیا کو نقصان پہنچے گا اور تمہیں اپنا کارخانہ بند کر دینا پڑے گا۔اور یا پھر ہم اُسے یہ کہتے کہ تم آئندہ موٹریں بنانی چھوڑ دو اور کارخانہ بند کردو۔مگر یہ