تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 533
نتیجہ میں ہوئی یا اس تعلیم کو رد کر نے اور اس کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دینے کے نتیجہ میں ہوئی۔ہر شخص جوذرا بھی عقل و فہم سے کام لے سمجھ سکتا ہے کہ عیسائیوں کی ترقی اس تعلیم کا نتیجہ نہیں بلکہ اس تعلیم سے مونہہ پھیر لینے کا نتیجہ ہے۔بیشک دنیا میں سب سے زیادہ مال آج عیسائیوں کے پاس ہے دنیا میںسب سے زیادہ کارخانے آج عیسائیوں کے قبضہ میں ہیں۔دنیا کی تجارتوں کا اکثر حصہ یورپین اقوام کے ہاتھ میں ہے۔اسی طرح زراعت پر اُن کا قبضہ ہے۔مختلف پیشوں اور فنون پر ان کا تسلط ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائیت نے ترقی کی مگر حضرت مسیح ؑکی طرف جو تعلیم منسوب کی جاتی تھی اُسے توڑ کر اور اُس کی خلاف ورزی کرکے انہوں نے ترقی کی ہے۔اُس تعلیم پر عمل کرکے ترقی نہیں کی۔(۲) پھر بعض قومیں ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ مذہب کو دولت کمانے کے ذرائع سے کوئی واسطہ نہیں۔دین اور مذہب عقیدہ سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔مذہب کا ا س بات سے کیا تعلق ہے کہ ہم کیا کماتے ہیں کس طرح کماتے ہیں اور کن ذرائع سے کماتے ہیں۔ایسی جماعتوں نے بیشک دنیا میں ترقی کی مگرا ن کا مذہب ایک مرجھائی ہوئی جھاڑی کی طرح رہ گیا۔وہ جماعتیں بے شک دنیا میں بڑھیں اور انہوں نے خوب ترقی کی۔مگر اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے پاس رہ گئی۔دین اور مذہب کے ساتھ اُن کا کوئی تعلق نہ رہا۔(۳)ان دونوں اصولوں کے خلاف اسلام نے ایک اور تعلیم بنی نوع انسان کے سامنے پیش کی ہے اور وہ یہ کہ اسلام کہتا ہے ہم دنیا کمانے سے تمہیں منع نہیں کرتے بلکہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں مال کا نام فضل اللہ رکھا گیا ہے ( سورۃ جمعہ :۱۱)اور بتا یا گیا ہے کہ مال و دولت کا میسر آنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل اور اس کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے۔اگر اسلام تجارت اور صنعت و حرفت سے منع کرتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ اسلام اس امر کو روا رکھتا ہے کہ دنیا کا ایک حصہ تو اسلام میں داخل ہو لیکن دوسرا حصہ بے شک داخل نہ ہو۔مثلاً جہازرانی دنیاکی تجارت کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔اگر جہاز بنانے اور جہاز چلانے اسلام کے نزدیک منع ہوتے تو پھر دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوتی۔یا توسفر منقطع ہو جاتے اور دنیا کی تہذیب اور ان کے تمدن پر ایک کاری ضرب پڑتی۔اور یا پھر اس بات کو تسلیم کرنا پڑتا کہ جو لوگ جہاز بناتے اور جہاز چلاتے ہیں وہ بیشک مسلمان نہ ہو ں۔ہندویا عیسائی یا سکھ ہی رہیں کیونکہ اگر وہ اسلام میں داخل ہوئے تو انہیں اس کام سے دست بردار ہونا پڑے گا۔مگر یہ بات بھی عقل کے خلاف ہے اور دیدہ و دانستہ دنیا کے ایک طبقہ کو اسلام سے محروم رکھنا ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔یا مثلاً کان کنی ایک ایسی چیز ہے جس سے حکومت کو بہت بڑی طاقت حاصل ہوتی ہے۔اگرا سلام روپیہ کمانے سے بنی نوع انسان کو منع