تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 527
دیکھو اس تشریح کے ساتھ سورۂ نور کی تمام آیتوں کا آپس میں کس طرح ربط قائم ہو جاتا ہے اور کس طرح پہلے چار رکوعوں کے مضمون کا اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور اس کے بعدکی آیتوں کے ساتھ ربط قائم ہو جاتا ہے اور ساری سورۃ کے مطالب آئینہ کی طرح سامنے آجاتے ہیں۔پس خلافت ایک الٰہی انعام ہے کوئی نہیں جو اس میں روک بن سکے۔وہ خدا تعالیٰ کے نور کے قیام کا ایک ذریعہ ہے جو اس کو مٹانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانا چاہتا ہے۔ہاں وہ ایک وعدہ ہے جو پورا تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کے زمانہ کی لمبائی مومنوں کے اخلاص کے ساتھ وابستہ ہے۔پھر فرماتا ہے۔لَا شَرْقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرْبِیَّۃٍ۔وہ نہ شرقی ہے نہ غربی۔شرقی درخت اس کو کہتے ہیں جس پر سورج صرف مشرق کی طرف سے پڑتا ہو اور مغرب کی طرف سے کسی دیوار یا درختوں کی اوٹ کی وجہ سے نہ پڑتا ہو۔اور غربی اس کو کہتے ہیں جس پر سورج صرف مغرب کی طرف سے پڑتا ہو مشرق کی طرف سے نہ پڑتا ہو۔اس میں ایک بات تو یہ بتائی کہ اسلامی شریعت ایک عالمگیر تعلیم کی حامل ہے۔وہ نہ مشرقی لوگوں سے مخصوص ہے اور نہ مغربی لوگوں سے بلکہ ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے ہے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے اس میں ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔پس دنیا اسی صورت میں امن سے رہ سکتی ہے جب وہ قرآنی تعلیم پر عمل کرے۔دوسرے اس میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ انتخابِ خلافت میں مشرق و مغرب کا خیال نہیں رکھنا چاہیے۔بلکہ مسلمانوں میں سے جو شخص لائق ہو اس کو خلیفہ بنانا چاہیے۔يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ۔پھر اس کا تیل ایسا بھڑکنے والا ہے کہ آگ کے بغیر بھی بھڑک سکتا ہے۔مگر اس کو آگ دکھا دی جائے تو نُوْرٌعَلیٰ نُوْرٍ ہو جاتا ہے یعنی وہ تعلیم ایسی کامل ہے کہ فطرتِ صحیحہ اس کو قبول کر نے کے لئے خود ہی اس کی طرف دوڑتی ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ کا کوئی ہادی بھی ظاہر ہو جائے اور الہام الٰہی کی آگ بھی اُسے چھو جائے تو پھر تو فطرتِ صحیحہ اس شریعت کے ساتھ مل کر اور نبی کی صحبت کی گرمی پا کر دنیا کو روشن کر دیتی ہے۔مگر فرماتا ہے یہ نور انسانی محنت سے نہیں ملتا بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے فائدہ کے لئے ہمیشہ اپنے دین کی تفاصیل بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک بات کو خوب جانتا ہے۔