تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 526

پھر فرماتا ہے اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ۔وہ گھر ابھی چھوٹے سمجھے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ان گھروں کو اونچا کرے کیونکہ نبوت کے بعد خلافت اس خاندان کو بھی اونچا کر دیتی ہے جس میں سے کوئی شخص منصب خلافت حاصل کرتا ہے۔اس آیت نے بتا دیا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا مقصدنور خلافت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتانا مدنظر ہے کہ نورِ خلافت نورِ نبوت اور نورِ الوہیت کے ساتھ کلی طور پر وابستہ ہے اور اس کو مٹانا دوسرے دونوں نوروں کو مٹانا ہے پس ہم اسے مٹنے نہیں دیں گے اور اس نور کو ہم کئی گھروں کے ذریعہ سے ظاہر کریں گے تا نور ِ نبوت کا زمانہ اور اس کے ذریعہ سے نورِ الٰہیہ کے ظہور کا زمانہ لمبا ہو جائے۔چنانچہ خلافت پہلے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس گئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پا س گئی۔کیونکہ خدا نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ ان بیوت کو اونچا کرے۔تُرْفَعَکے لفظ نے یہ بھی بتادیا کہ الزام لگانے والوں کی اصل غرض یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیچا کریں اور انہیں لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کریں مگر خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ان کو اونچا کرے۔اور جب خدا انہیں عزت دینا چاہتا ہے تو پھر کسی کے الزام لگانے سے کیا بنتا ہے۔اب دیکھو سورۂ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگا یا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو رسو ا کیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کے جو تعلقات ہیں اُن میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگا ہ میں ان کی عزت کم ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہو سکیں کیونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اٹھتی ہے تو وہ ابوبکر ؓ ہی ہے اور اگر ابوبکر ؓ کے ذریعہ سے خلافت قائم ہوگئی تو عبداللہ بن ابی ابن سلول کی بادشاہی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوںگے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس الزام کے معًا بعد خلافت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ خلافت بادشاہت نہیں وہ تو نورِ الٰہی کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اس کا قیام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اس کا ضائع ہونا نورِ نبوت اور نورِ الوہیت کا ضائع ہونا ہے۔پس وہ اس نور کو ضرور قائم کرے گا اور جسے چاہے گا خلیفہ بنائے گا بلکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک نہیں بلکہ متعدد لوگوں کو خلافت پر قائم کرکے اس نور کے زمانہ کو لمبا کر دے گا تم اگر الزام لگانا چاہتے ہو تو بے شک لگائو۔نہ تم خلافت کو مٹا سکتے ہو نہ ابوبکر ؓ کو خلافت سے محروم کر سکتے ہو کیونکہ خلافت ایک نور ہے جو نور اللہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان اپنی تدبیروں سے کہاں مٹا سکتا ہے۔