تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 525
چاہتے ہم تمہارے باپ سے نرمی اور احسان کا ہی معاملہ کریں گے۔اب گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی سزا نہ دی مگر اس کے بیٹے کا دل اس غم سے کباب ہو رہا تھا کہ میرے باپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے گندے اور ناپاک الفاظ کیوں استعمال کئے۔اور اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے باپ سے اس کا انتقام لےگا۔چنانچہ جب اسلامی لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو اس کا بیٹا جلد ی سے آگے بڑھا اور مدینہ کے دروازہ پر تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ سے کہنے لگا کہ خدا کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تم اس بات کا اقرار نہ کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے سب سے زیادہ معزز شخص ہیں اور میں مدینہ کا ذلیل ترین انسان ہوں۔اور اگر تُونے اس بات کا اقرار نہ کیا تو میں اسی تلوار سے تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوںگا۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے اپنے بیٹے کی زبان سے یہ بات سُنی تو وہ گھبرا گیا اور اُس نے مدینہ کے دروازہ میں کھڑے ہو کر کہا کہ اے لوگو! سُن لو میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے سب سے زیادہ معزز انسان ہیں۔جب اُس نے یہ بات کہی تب اس کے بیٹے نے اُس کا راستہ چھوڑا اور اُسے شہر میں داخل ہونے دیا(السیرة الحلبیة باب ذکرمغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوة بنی المصطلق)۔غرض یہ بھی ایک عذاب تھا جو خدا تعالیٰ نے خود اس کے بیٹے کے ذریعہ اُسے دیا۔اس الزام کا ذکر کرنے اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کی اس شرارت کو بیان کرنے کے بعد کہ اُس نے خلافت میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا یا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ۔اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے مگر اس کے نور کو مکمل کرنےکا ذریعہ نبوت ہے اور اُس کے بعد اس کو دنیا میں پھیلانے اور اُسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ خلافت ہی ہے۔گویا نبوت ایک چمنی ہے جو اس کو آندھیوں سے محفوظ رکھتی ہے اور خلافت ایک ری فلیکٹر ہے جو اس کے نور کو دُور تک پھیلاتا ہے۔پس ان منافقوں کی تدبیروں کی وجہ سے ہم اس عظیم الشان ذریعہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ اپنے نور کو دیر تک دنیا میں قائم رکھنے کے لئے اس سامان کو مہیا کریں گے۔اس بات کا مزید ثبوت کہ اس آیت میں جس نو ر کا ذکر ہے وہ نور خلافت ہی ہے اس سے اگلی آیتوں میں ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ یہ نور کہاں ہے۔فرماتا ہے فِيْ بُیُوْتٍ یہ نور خلافت چند گھروں میں پایا جاتا ہے۔نورِ نبوت تو صرف ایک گھر میں تھا مگر نورِ خلافت ایک گھر میں نہیں بلکہ فِيْ بُیُوْتٍ چند گھروں میں ہے۔