تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 521
مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہو کر اس عقیدت کو ترک کردیں جو انہیں آپ سے تھی۔اور اس طرح رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہوجائے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔حدیثوں میں صریح طور پر ذکر آتا ہے کہ صحابہ ؓ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکر ؓ کا ہی مقام ہے (ابوداؤد کتاب السنة باب فی التفضیل)۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ سے کہا۔اے عائشہ ؓ ! میں چاہتا تھا کہ ابوبکر ؓ کو اپنے بعد نامزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سوا اور کسی پر راضی نہیں ہوںگے اس لئے میں کچھ نہیں کہتا (مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر ؓ)۔غرض صحابہ ؓ یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُن میں اگر کسی کا درجہ ہے تو ابوبکر ؓ کا ہے اور وہی آپ کا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔مکی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے نظام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔لیکن مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد حکومت قائم ہوگئی اور طبعاً منافقوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ آپ کے بعد کوئی خلیفہ ہوکر نظامِ اسلامی لمبا نہ ہو جائے اور ہم ہمیشہ کے لئے تباہ نہ ہو جائیں۔کیونکہ آپ کے مدینہ میں تشریف لانے کی وجہ سے اُن کی کئی اُمیدیں باطل ہوگئی تھیں۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دوقبیلے اوس اور خزرج تھے اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل و خون ریزی کا بازار گرم رہتا تھا۔جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہمارے قبائل کا رعب مٹتا چلا جاتا ہے تو انہوں نے آ پس میں صلح کی تجویز کی۔اور قرار دیا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کرلیں اور کسی ایک شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیں چنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اور فیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم دے دیا گیا۔اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ سے واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ آخری زمانہ کا نبی مکہ میں ظاہر ہو گیا ہے اور ہم اُس کی بیعت کر آئے ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور چند دنوں کے بعد اور لوگوں نے بھی مکہ جاکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔اور پھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلم ہمارے ساتھ بھیجیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی ؓ کو مبلغ بنا کر بھیجا اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔انہی دنوں چونکہ