تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 512

جاری ہو سکتا ہے۔اور اسی کی طرف اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی آسمانوں اور زمینوں کا نور خدا ہی ہے اور سب چیزیں اسی سے طاقت پاتی ہیں۔وہ جس قانون کو جاری کرتا ہے وہ ایسے سرچشمہ سے نکلتا ہے جو لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ کا مصداق ہو تا ہے۔اُس میں نہ مشرقیوں کی رعایت مدنظر ہوتی ہے اور نہ مغربیوں کی نہ عورتوں کی رعایت ہوتی ہے نہ مردوں کی۔نہ کمزوروں کے حقوق کو تلف کیا جاتا ہے نہ طاقتوروں کی رعایت مدنظر رکھی جاتی ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمدن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلیم نہ کی جائے۔مزدور اور سرمایہ دار کے جھگڑے صرف اسی لئے پید اہوئے کہ دنیا نے کہا ہم خود تمدنی قوانین بنائیں گے بلکہ وہ اسلام پر اعتراض کرتے رہے کہ اس نے تمدنی امور میں کیوں دخل دیا ہے۔لیکن اب وہ لوگ بھی دھکے کھا کھا کر وہیں آرہے ہیں جہاں اسلام لانا چاہتا ہے اور تعلقات مابین خواہ میاں بیوی کے ہوں یا ماں باپ کے۔بھائی بھائی کے ہوں یا بہن بھائی کے۔رعایا اور راعی کے ہوں یا مختلف حکومتوں کے سب میں دنیا اسلام کی طرف آرہی ہے۔پس اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِمیں اس طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ تمدن کی بنیاد الہام پر رکھو ورنہ تمہارے آپس کے جھگڑے اور مناقشات کبھی ختم نہیں ہوں گے اور دنیا میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں ہوگا۔اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِکےبعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ۔اس کے نور کی مثال ایک طاقچے کی سی ہے جس میں ایک تیز روشی والا چراغ رکھا ہوا ہو۔مشکوٰۃ اس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوا رمیں بنا ہوا ہو اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہ ہو۔دیوار میں دو طرح کے طاقچے بنائے جاتے ہیں ایک کھڑکی کی طرح ہوتا ہے یعنی اُس کے آر پار سوراخ ہوتا ہے کیونکہ کھڑکی کی غرض باہر دیکھنا ہوتی ہے یا مثلاً روشن دان بنانے کے لئےجو خلا رکھا جاتا ہے اس کے بھی آر پار سوراخ ہوتا ہےکیونکہ روشن دان سے یہ غرض ہوتی ہے کہ ہوا اور روشنی کی آمد و رفت رہے۔مگر پرانے زمانے میں مساجد میں خصوصًا اس قسم کے طاقچے بنائے جایا کرتے تھے جن میں چراغ یا قرآن شریف رکھے جاتے تھے اور جن کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا تھا اور مشکوٰۃ ایسے ہی طاقچے کو کہتے ہیں جس کے دوسری طرف سوراخ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں اپنے نور کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُس نور کی مثال ایک طاقچے کی سی ہے جس میں ایک بتی رکھی ہوئی ہو۔اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ۔اور وہ بتی ایک چمنی یا گلوب میں ہو۔اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ۔اور وہ چمنی یا گلوب ایسے اعلیٰ درجہ کے شیشہ کا بنا ہوا ہو اور ایسا روشن ہو کہ گویا وہ ایک ستارہ ہے جو چمک رہا ہے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ کے نور کو تین چیزوں میں محصور قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کمالِ نور ہمیشہ تین ذرائع سے ہوتا ہے۔ایک مشکٰوۃ سے۔ایک مصباح سے اور ایک زجاجہ سے۔