تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 511

وہ دوسروں کو روشنی پہنچا ئےگا۔یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی خدا کا ہو جائے اور اپنے دائرہ استعداد کے مطابق سورج یا چاند یا ستارہ نہ بنے جو شخص اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پید اکر لیتا ہے وہ اس کے نُور کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی اپنے انوار سے منور کر دیتا ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ اسی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو مجھے اس بات کی ہر گز تمنا نہ تھی (کہ میں مسیح موعود کہلائوں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہرائوں ) میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اُس نے گوشۂ تنہائی سے مجھے جبرًا نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشید ہ رہوں اور پوشیدہ مروں۔مگر اُس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوںگا۔‘‘ ( حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳) غرض نور کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ظاہر ہو۔وہ کبھی چھپ کر نہیں رہ سکتا۔پس جب کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے اندر پیدا کرلے تو نہ صرف اُس میں بلکہ اُس کے ملنے والوں میں بھی ایک پاک تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ کئی لوگوں کے اندر وہ تبدیلی نا مکمل ہو مگر پھر بھی نور ضرور ظاہر ہو کر رہتا ہے۔جس طرح کا لے کپڑے کی اوٹ میں بھی اگر بتی جلائی جائے تب بھی کچھ نہ کچھ روشنی ضرور نکلتی ہے۔اسی طرح ممکن ہے کہ کسی کے دل میں محبت الٰہی کی ایک ہلکی سی چنگاری تو مخفی ہو مگر گناہوں کی سیاہ چادر اُس پر پڑی ہوئی ہو۔لیکن یہ سیاہی اس کے نور کو صرف کم کر سکتی ہے مٹا نہیں سکتی۔اور جب بھی اس کی سیاہ چادر ہٹے گی الٰہی نور نہایت شان سے اس میں سے ظاہر ہوناشروع ہو جائےگا۔پھر اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کہہ کراسلام نے دنیا کے سامنے یہ اصل بھی پیش کیا ہے کہ تمدن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے نور یعنی اس کے الہام پر ہونی چاہیے۔اور تمدنی قوانین صرف اُس ذات کی طرف سے ہونے چاہئیں جس کی نہ کسی سے رشتہ داری ہے اور نہ دوستی۔عورتوں سے پوچھو تو وہ کہتی ہیں کہ مردوں کے ہاتھ میں چونکہ قانون بنانا ہے اس لئے وہ جس طرح چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں۔اسی طرح پہلے زمانہ میں ہندوستانی کہا کرتے تھے کہ ملکی قوانین چونکہ انگریزوں نے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے ہوئے ہیں اس لئے ہم سول نافرمانی کرتے ہیں۔غرض کوئی قوم دوسری قوم کے بنائے ہوئے قوانین پر مطمئن نہیں ہو سکتی مگر خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے متعلق کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ اس نے کسی قوم کی رعایت کی ہے۔خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی غر ض نہیں کہ لنکا شائر کا کپڑا فروخت ہو یا نہ ہو اور ہندوستان کی روئی بکے یا نہ بکے اس کے نزدیک سب یکساں ہیں۔پس صحیح قانون اُسی کی طرف سے