تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 503
اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ بھلائی دیکھو تو اُن سے مکاتبت کر لو۔اور( اگر اُن کے پاس پورا مال نہ ہو تو) جو اللہ نے تم کو مال دیا ہے اس میں سے کچھ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى مال دے (کر اُن کی آزادی ممکن بنا) دو۔اور تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ نیک رہنا چاہتی ہوں الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ؕ تاکہ تم اُن کے ذریعہ سے دنیوی زندگی کا سامان جمع کرو اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے۔تو اللہ (تعالیٰ) اُن عورتوں کی وَ مَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ مجبوری کے بعد بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (وہ ان پر گرفت نہیں کرےگا) اور ہم نے تم پر کھلے کھلے رَّحِيْمٌ۰۰۳۴وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ نشانات اتار ے ہیں۔اور جو لوگ تم سے پہلے گذر چکے ہیں اُن کے حالات بھی بیان کئے ہیں اور متقیوں کے لئے الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ؒ۰۰۳۵ نصیحت کی باتیں بھی (بیان کی ہیں)۔حلّ لُغَات۔وَلْیَسْتَعْفِف۔عربی زبان میں عِفَّۃٌ کے معنے ہوتے ہیں تَرْکُ الشَّھْوٰتِ یعنی شہوات کا چھوڑ دینا ( اقرب ) اور اِسْتِعْفَافٌ کے معنے ہیں عفت اختیار کرنا ( مفردات ) پس ولْیَسْتَعْفِف کے معنے ہوںگے چاہیے کہ شہوات کو ترک کر کے پاکیزگی اختیار کریں۔اَلْکِتٰبُ۔مفردات میں ہے کہ کِتَابَۃُ الْعَبْدِ اِبْتِیَاعُ نَفْسِہٖ مِنْ سَیِّدِہٖ بِمَا یُؤَدِّیْہِ مِنْ کَسْبِہٖ۔یعنی جب غلام کے لئے کتابت کا لفظ بولا جائے تو اُس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اُس نے اپنے آقا کے ساتھ ایسامعاہدہ کر لیا ہے کہ وہ کچھ رقم اپنی کمائی سے بالا قساط اداکرتا رہےگا۔حتّٰی کہ مقررہ رقم ادا کرکے آزاد ہو جائےگا۔( مفردات )