تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 1

سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَآءِ مَکِّیَّةٌ سورۃ انبیاء۔یہ سورۃ مکی ہے۔۱؎ وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِاْئَةٌ وَّ ثَلَا ثَ عَشْرَةَ اٰیَةً وَّ سَبْعَةُ رُکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو تیرہ آیات ہیں۔اور سات رکوع ہیں۔۱؎ یہ سورۃ بلاخلاف مکی ہے۔صر ف امام سیوطیؒ نے ساتویں آیت کو مدنی قرار دیا ہے (اتقان ) وہیری کے نزدیک یہ سورۃ نویں سال نبوت کی معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ اس میں کفار کی مخالفتوں کا ذکر ہے۔یہ دلیل ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ چونکہ سورئہ رحمٰن میں بحیرہ قلزم اور بحیرہ احمر کے ملائے جانے کا ذکر ہے اور بڑے بڑے جہازوںکے چلنے کا ذکر ہے اور یہ امور انیسویں صدی کے آخر میںہوئے ہیں اس لئے یہ سورۃ انیسویں صدی کے آخر میںنازل ہوئی ہے۔انسان جب تعصب اور بددیانتی پر اتر آتا ہے تو وہ ایسی ایسی احمقانہ باتیں ہی کیا کرتاہے۔وہیری کے لئے کیسا آسان راہ موجود تھاکہ صحابہ ؓ جن کے زمانہ میں یہ سورۃ نازل ہوئی انہوں نے شہادت دی ہے کہ یہ سورۃ ۵ ؁ نبوت سے پہلے نازل ہوچکی تھی اور انہوں نے اسے حفظ کرلیا تھا۔اس لئے یہ سورۃ ۵ ؁ نبوی سے پہلے کی نازل شدہ ہے مگر چونکہ ریورنڈ وہیری یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ قرآن کریم غیر الہامی کتاب ہے اس لئے ان کے لئے یہ امر ماننا مشکل تھا کہ بعض باتیںاس میں وقت سے پہلے پیشگوئی کے طور پر بیان کی گئی تھیں۔حقیقت یہی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت کے مطابق کہ سورئہ کہف۔مریم۔طٰہٰ اور انبیاء ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ ہیںجن کو انہوں نے اپنے اسلام کے شروع زمانہ میںیاد کیا تھا۔(بخاری کتاب التفسیرسورة الانبیاء) اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں۔یہ سورتیں بہر حال ابتدائی زمانہ کی ہیںاور چونکہ سورئہ مریم ہجرت حبشہ کے شروع میںنجاشی کے دربار میںپڑھی گئی تھی۔اور ہجرت حبشہ ۵ ؁ نبوی کے شروع میں ہوئی تھی اس لئے یہ سورتیں پہلے چار سال کے اندر کی ہیںپس سورئہ انبیاء ۵ نبوی کے ابتداء سے پہلے نازل ہوئی تھی اور وہیری کادعویٰ سراسر لغو اور بے دلیل ہے۔ترتیب سورۃ۔سورۃ الانبیاء کا پہلی سورۃ سے تعلق یہ سورۃسورئہ طٰہٰ کے بعد آتی ہے اور اس کا قریبی تعلق سورئہ طٰہٰ سے یہ ہے کہ سورئہ طٰہٰ کے آخر میں یہ مضمون تھاکہ کفار پر عذاب تو آئے گا مگر حجت تمام کرنے کے بعد۔اس لئے صبر سے کام لو اپنے وقت پر ضرور منکرین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عذاب آکر رہے گا۔اس مضمون کے تسلسل میں