تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 493
جائز ہی نہیں ہو سکتا۔اور جو چیز جائز ہی نہ ہو اس کے لئے احکام کس طرح بتا ئے جا سکتے ہیں۔پس یا تو ان الفاظ سے بوڑھے نوکر مراد ہیں یا پاگل اور نیم عقل رشتہ دار جو احساسِ شہوت سے عاری ہوں یا ایسے بچے جن میں ابھی احساسِ شہوت پید انہ ہو ا ہو۔اور مردو عورت کے تعلقات سے ناواقف ہوں۔وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَایُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ۔فرماتا ہے زیورات چاہے پوشیدہ ہوں عورتوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح پیر نہ مارا کریں کہ اُن کی چھنکار لوگوں کو سُنائی دے اور انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مالدار عورتیں ہیں اور اُن سے تعلق پیدا کرنا ان کے لئے مفید ہو گا۔اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ ناچ وغیرہ کو شریعت نے ناجائز رکھا ہے کیونکہ اس سے بے حیائی پیدا ہوتی ہے۔یہ احکام ایسے باحکمت ہیں کہ اگر کوئی شخص تعصب کے بغیر ان پر غور کرے تو ان احکام کی خوبی کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ ان سے بہت سی بدیوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض علاقوں میں پردہ کے متعلق ایسے تشدد سے کام لیا جاتا تھا کہ وہ ڈولیوں کو بھی پردوں میں سے گذارتے تھے۔چنانچہ میں نے خود دیکھا کہ عورتوں کو ڈولی میں لاتے اور پھر ڈولی کے اردگرد پردہ تان کر انہیں گاڑی میں سوار کراتے۔اور بعض قوموں میں اس سے بھی بڑھ کر یہ پردہ ہوتا تھا کہ وہ کہتے تھے عورت ڈولی میں آئے تو پھر اس کا جنازہ ہی گھر سے نکلے۔مگر یہ لوگوں کے خود ساختہ پردے ہیں جو صریح ظلم ہیں اور اُن کا اثر عورتوں کی صحت اور اُن کے اخلاق اور ان کے علم اور اُن کے دین پر بہت ہی گندا پڑا ہے۔قرآن اور حدیث سے اس قسم کے کسی پردے کا پتہ نہیں چلتا بلکہ قرآن کریم سے صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو با ہر نکلنے کی اجازت ہے۔اگر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی تو غضِ بصر کے حکم کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔پھر تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خود آپ ؐ کی بیویاں اور آپ ؐ کی بیٹیاں باہر نکلتی تھیں اُن کا جنگوں پر جانا۔کھیتوں وغیرہ پر کام کرنے کے لئے جانا حاجاتِ بشریہ پورا کرنے کے لئے جانا۔علم سیکھنے اور سکھانے کے لئے جانا یہ نہایت ہی کثرت کے ساتھ ثابت ہے اور چھوٹی سے چھوٹی تاریخ سے بھی اس کے ثبوت مل سکتے ہیں پس اسلام ہر گز یہ حکم نہیں دیتا کہ عورتیں گھروں میں بند ہو کر بیٹھ جائیں۔اور نہ ابتدائے اسلام میں مسلمان عورتیں ایسا کرتی تھیں۔بلکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سننے آتی تھیں۔جنگوں میں شامل ہوتی تھیں۔زخمیوں کی مرہم پٹیاں کرتی تھیں۔سواری کرتی تھیں۔مردوں سے علوم سیکھتی اور سکھاتی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق تو یہاں تک ثابت ہے کہ آپ مردوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنایا کرتی تھیں