تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 491

والی عورتوں کے یا جو اُن کے غلام ہیں اور کسی پر ظاہر نہ کریں۔یا سوائے ایسے نوکروں کے جو شہوت کی عمر سے باہر ہیں یعنی بہت بوڑھے ہیں یا سوائے ایسے بچوں کے جن میں ابھی احساسِ شہوت پیدا نہیں ہوا۔اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض عورتوں سے بھی پردہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہر ملک میں یہ رواج ہے اور ہمارے ملک میں بھی تھا گو اب کم ہو گیا ہے کہ بد چلن لوگوں نے آوارہ عورتیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں جو گھروں میں جا کر آہستہ آہستہ عورتوں کو ورغلاتی اور انہیں نکال کر لے جاتی ہیں۔اس قسم کی عورتوں کو روکنے کے لئے شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر عورت کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے بلکہ وہی عورتیں آئیں جن کے متعلق اس قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو۔اور اُن کے حالات سے پوری واقفیت ہو۔اگر کوئی شخص تاریخ کا مطالعہ کرے تو اُسے معلوم ہو گا کہ سپین اور ہندوستان میں عورتوں کی وجہ سے ہی تباہی آئی ہے۔سپین کے عیسائیوں نے جب مسلمانوں میں اپنی عورتیں پھیلائیں اور اُن سے طرح طرح کے گندے کام لئے اور انہیں اپنے مذہب کے پھیلانے کا ایک ذریعہ بنایا اور بہت سی مسلمان عورتوں کے خیالات کو بد ل دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ مسلمانوں کی نسلوں میں عیسائیت کے خلاف کوئی جوش نہ رہا اور وہ اُن سے اس قدر مل جل گئے کہ عیسائیوں کو اُن پر اقتدار حاصل ہو گیا۔دوسری طرف عیسائیوں نے اپنی عورتوں کے ذریعے مسلمانوں میں عیاشی اور آرام طلبی کی عادت ڈال دی جس سے اُن میں نہ غیرت اسلامی رہی اور نہ لڑنے کی طاقت رہی(اخبار الاندلس ہشام الثانی)۔آخر یہاں تک نو بت پہنچی کہ عیسائیوں نے مسلمانوں کے ملک پر قبضہ جمانا شروع کیا اور وہ بڑھتے بڑھتے غرناطہ کی دیواروں تک آپہنچے مگر مسلمان پھر بھی بیدار نہ ہوئے اور وہ اپنے عیش میں ا س طرح مست رہے کہ گویا شہر کے باہر فوج نہیں بلکہ برات پڑی ہے۔آخر انہوں نے اپنا وطن ترک کرنے کی ٹھانی اور افریقہ جانا چاہا مگر عیسائی انہیں کب واپس جانے دیتے تھے۔انہوں نے وہ جہاز ڈبو دئیے جن میں خود عیسائی بادشاہ کی اجازت سے مسلمانوں نے اسلامی لٹریچر کی کتابیں بھری تھیں اور اس طرح سپین سے اسلام او ر مسلمانوں کا نام تک مٹا دیا۔اسی طرح ہندوستان میں بھی عیسائی مِسوں نے مسلمانوں کے گھر وں میں جا جا کر کئی عورتوں کو عیسائی بنا لیا تھا لیکن افسوس ہے کہ مسلمان اب بھی ایسے پادریوں کے سکولوں میں اپنی لڑکیاں داخل کرتے ہیں جہاں پڑھانے والی عیسائی عورتیں ہوتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لڑکیاں خود مذہب سے بیزار ہو جاتی ہیں اور اسلام پر ہنسی اُڑاتی ہیں۔اِلَّا ماشاء اللہ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتوں کے متعلق بھی پہلے تحقیق کر لیا کرو کہ اُن کا چال چلن کیسا ہے۔اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو پھر انہیں گھر میں آنے کی اجازت دو۔اور یہی نِسَآىِٕهِنَّ َّ سے مراد ہے یعنی وہ عورتیں جو تمہارے