تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 488

دے کے حکم میں ہی شامل ہے۔اسی طرح جن عورتوں کو پانی میں کام کرنا پڑتا ہو اُن کے لئے یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ پاجامہ اڑس لیں اور اُن کی پنڈلی ننگی ہو جائے لیکن جس عورت کے کام اسے مجبور نہیں کرتے کہ وہ کھلے میدانوں میں نکل کر کام کرے اس پر اجازت کا اطلاق نہ ہوگا۔غرض اِلَّا مَاظَھَرَ مِنْھَا کے ماتحت کسی مجبوری کی وجہ سے جتنا حصہ ننگا کرنا پڑے ننگا کیا جا سکتا ہے۔مثلاً ایک زمیندار عورت مونہہ پر نقاب ڈال کر گوڈی وغیرہ یا زمینداری سے تعلق رکھنے والے دوسرے کام نہیں کر سکتی اس کے لئے جائز ہوگا کہ ہاتھ اور آنکھوں سے لےکر ناک تک کا حصہ ننگا رکھے تاکہ کام کر سکے لیکن جن عورتوں کو اس قسم کے کام نہ کرنے پڑتے ہوں بلکہ انہوں نے صرف سیر وغیرہ کے لئے باہر نکلنا ہو۔اُن کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے منہ کو ڈھانکیں۔غرض اِلَّا مَاظَھَرَ مِنْھَا کے یہ معنے ہیں کہ وہ حصہ جو آپ ہی آپ ظاہر ہو اور جسے کسی مجبوری کی وجہ سے چھپا یا نہ جاسکے خواہ یہ مجبوری بناوٹ کے لحاظ سے ہو۔جیسے قد کہ یہ بھی ایک زینت ہے مگر اس کو چھپانا ناممکن ہے اس لئے اس کو ظاہر کرنے سے شریعت نہیں روکتی۔یا بیماری کے لحاظ سے ہو کہ کوئی حصہ جسم علاج کے لئے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو یہا ں تک فرمایا کرتے تھے کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر کسی عورت کے متعلق تجویز کرے کہ وہ مونہہ نہ ڈھانپے اگر ڈھانپے گی تو اس کی صحت خراب ہو جائےگی اور اِدھر اُدھر چلنے پھرنے کے لئے کہے تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت منہ ننگا کرکے چلتی ہے تو بھی جائز ہے بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ ہواور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی قابل ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائےگی تو اس کی جان خطرہ میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ جنوائے تو یہ بھی جائز ہوگا۔بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مر جائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی گنہگار سمجھی جائےگی جیسے اُس نے خود کشی کی ہے۔پھر یہ مجبوری کا م کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے جیسے زمیندار گھرانوں کی عورتوں کی میں نے مثال دی ہے کہ اُن کے گذارے ہی نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ کاروبار میں اپنے مردوں کی امداد نہ کریں۔یہ تمام چیزیں اِلَّا مَاظَھَرَ مِنْھَا میں ہی شامل ہیں۔پھر فرماتا ہے۔وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیوں کو کھینچ کر اپنے گر یبانوں تک لے آئیں۔خمار کسی چادر یا دو پٹے کا نام نہیں ہے بلکہ اُس رومال کا نام ہے جو کام کرتے وقت عورتیں اپنے سر پر باندھ لیا کرتی ہیں۔اور جیب عربی زبان میںقمیض کے چاک کو کہتے ہیں۔جیسے ہمارے ہاں گریبان کہتے ہیں۔(اقرب) یہ گریبان مختلف طریق سے بنا یا جاتا ہے۔بعض لوگوں میں پیچھے کی طرف ہوتا ہے بعض میں دائیں کندھے کی طرف ہوتا ہے۔بعض میں بائیں کندھے کی طرف ہوتا ہے۔بعض میں اگلی طرف ہوتا ہے۔بعض میں دائیں بائیں دونوں