تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 485
لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ تو کسی غیر عورت کے چہرہ پر نگاہ نہ ڈال۔نہ اچھی نظر سے اور نہ بری نظر سے کیونکہ اگر تو نے دیکھا تو ہو سکتا ہے کہ شیطان تجھے ورغلائے اور تیرے دل میں بدی کا بیج بو دے۔پھر اسلام اگر ایک طرف مردوں کو غضِ بصر کی ہدایت دیتا ہے تو ساتھ ہی عورتوں کو بھی اس کی تاکید کرتا ہے۔مگر عیسائیت صرف مردوں کو اس تعلیم کا پابند قرار دیتی ہے اور وہ بھی اس شکل میں کہ وہ غیر محرم عورت کو تو کھلے بندوں دیکھنے کی اجازت دیتی ہے مگر اتنی احتیاط رکھنے کی ہدایت دیتی ہے کہ بری نگاہ سے نہ دیکھو۔مگر یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؎ درمیانِ قعرِ دریا تختہ بندم کردۂ بازمی گوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش دریا کے وسط میں قید کر دینا او ر پھر کہنا کہ دیکھنا تمہارے کپڑے گیلے نہ ہوں عقل کے بالکل خلاف ہے۔اسی طرح یہ کہنا کہ عورتوں کو تو دیکھو مگر بری نیت سے نہ دیکھو ایسی بات ہے جو کسی صورت میں بھی قابلِ عمل نہیں کہلا سکتی۔کیونکہ بدی کی جڑ مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط ہی ہے۔اگر اس جڑ کو قائم رکھا جائے تو بدی کے رُکنے کا کوئی احتمال ہی نہیں ہو سکتا۔پس عیسائیت ایک ایسی تعلیم پیش کرتی ہے جو ناقابلِ عمل ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ مردوں کو چاہیے کہ وہ غیر محرم عورتوں کو نہ دیکھیں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھیں اور اس طرح اپنے ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کریں۔مگر بعض لوگوں نے جو حقیقت پر غور کرنے کے عادی نہیں غلطی سے اس حکم سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر محرم عورت کے کسی حصہ پر بھی نظر ڈالنا اسلامی احکام کی رُو سے جائز نہیں۔حالانکہ یہ درست نہیں اگر شریعت اسلامیہ کا یہی منشا ہوتا کہ عورت کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر نہ ڈالی جائے تو عورتوں کو چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت ہی نہ ہوتی اور مکان بھی بند دریچوں کے بنائے جاتے۔جس قسم کے ظالم بادشاہ پرانے زمانہ میں قید خانے بنایا کرتے تھے حالانکہ عورت بھی اسی قسم کی انسان ہے جس قسم کا کہ مرد ہے اور اُس کی طبعی ضروریات بھی مرد ہی کی طرح ہیں اور خدا تعالیٰ کا طبعی قانون بھی دونوں پر یکساں اثر کر رہا ہے۔اور وہ قانون صحت کی درستی اور جسم کی مضبوطی کے لئے اس امر کا مقتضی ہے کہ انسان کھلی ہو ا میں پھرے اور محدود دائرہ میں بند ہونے کا خیال اس کے اعصاب میں کمزوری پیدا نہ کرے اور جبکہ شریعت عورت کو باہر پھرنے کی اجازت دیتی ہے تو لازماً جب وہ باہر نکلے گی اس کی نظر مردوں کے جسم کے بہت سے حصوں پر اُسی طرح پڑے گی جس طرح عورت کے بعض حصوں پر مرد کی پڑتی ہے۔خواہ وہ کپڑوں کے