تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 484

يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ اور اے مومنو ! سب کے سب اللہ کی طرف رجوع کرو۔الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۰۰۳۲ تا کہ تم کامیاب ہو جائو۔حلّ لُغَات۔یَغُضُّوْا۔یغضُّوا غَضَّ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور غَضَّ بَصَرَہٗ کے معنے ہیں مَنَعَہ‘ مِمَّا لَا یَحِلُّ لَہٗ رُوْیَتُہٗ یعنی اپنی آنکھ کو اس چیز سے روکاجس کا دیکھنا اس کے لئے ممنوع تھا۔( اقرب) خُمُر۔خُمُرٌ خِمَارٌ کی جمع ہے اور اَلْخِمَارُ کے معنے ہیں ھُوَ مَا تُغَطِّیْ بِہِ الْمَرْأۃُ رَاْسَھَا۔وہ کپڑا جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے۔( اقرب) جُیُوْ بِھنَّ۔اَ لْجُیُوْبُ اَلْجَیْبُ کی جمع ہے او ر اَلْجَیْبُ کے معنے ہیں اَلْقَلْبُ وَالصَّدْرُ۔سینہ (اقرب) اَلْاِرْبَۃُ۔اَ لْإِرْبُ: اَلْحَاجَۃُ یعنی اربۃ کے معنے عربی زبان میں حاجت کے ہوتے ہیں۔(اقرب )پس غَیْرُ اُولِی الْاِرْبَۃِ کے معنے ہوںگے جن کو کوئی حاجت اور ضرورت نہ ہو۔تفسیر۔یہاں بدی سے بچنے کا ایک اور طریق بتا یا۔اور وہ یہ کہ مومن مرد اور مومن عورتیں اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔کیونکہ اس سے بدی کا امکان بہت کم ہو جائےگا اور برائی پھیلنے کا راستہ مسدود ہو جائے گا۔گویا باوجود پردہ کے حکم کے جو الٰہی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔پھر بھی بعض مواقع ایسے نکل سکتے ہیں جبکہ مرد و عورت اکٹھے ہوں ایسی صورت میں یہ حکم دیا کہ مرد و عورت دونوں اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں تا کہ شیطان اُن پر حملہ آور نہ ہو اور ان کے دلوں کی پاکیزگی قائم رہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح ؑنے بھی انجیل میں غیرعورتوں پر نگاہ ڈالنے سے روکا ہے اور اسلام نے بھی اس کی ممانعت کی ہے۔مگرحضرت مسیح ؑ نے تو صرف یہ کہا ہے کہ ’’ جس کسی نے بری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کر چکا۔‘‘ ( متی باب ۵ آیت ۲۸)