تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 481

حاصل کرنےکی کوشش کے ہیں کہ آیا گھر والے ملاقات کرنا پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔گویا اس کے معنے اپنا تعارف کروانے کے ہیں اور یہ اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ پہلے گھروالوں کی توجہ اپنی طرف پھیر لی جائے۔اب سوال یہ ہے کہ گھروالوں کی توجہ کو کس طرح پھیرا جائے سو اس کے لئے ایک طریق تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیا کہ پہلے السلام علیکم کہو اور پھر اندر آنےکی اجازت حاصل کرو۔اور ایک عام طریق جو لوگوں کا اپنا ایجاد کردہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ دروازہ کو زور زور سے کھٹکھٹانا یا زنجیر ہلانا شروع کر دیتے ہیں مگر السلام علیکم نہیں کہتے چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہنا ضروری قرار دیا ہے اس لئے خواہ دستک دی جائے یا زنجیر ہلائی جائے تب بھی اس حکم کے ماتحت ضروری ہو گا کہ دستک کے ساتھ السلام علیکم کہا جائے لیکن جہاں امراء کو ٹھیوں کے اندر رہتے ہوں وہاں اُن کی ملاقات کے لئے اگر تعارفی کارڈ اندر بھجوا دیا جائے یا رقعہ لکھ کر کسی خادم کے ذریعہ اپنے آنے کی اطلاع دےدی جائے تو یہ طریق بھی استیناس میں ہی شامل ہوگا کیونکہ اس ذریعہ سے وہ اپنا تعارف کروا دیتا ہے۔اس کے بعد جب انسان اندر داخل ہو تو پھر تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا کے ماتحت اس کا فرض ہوگا کہ وہ دوبارہ سلام کرے۔گویا ایک سلام تو استیناس کے وقت ہوگا اور ایک سلام اس وقت ہوگا جب وہ ملاقات کے لئے اندر داخل ہوگا۔استیناس کی شرط علاوہ اور حکمتوں کے اس لئے بھی رکھی گئی ہے کہ بعض دفعہ ایسا آدمی ملاقات کے لئے آجاتا ہے جس سے ملنا ضروری نہیں ہوتا۔پس جب وہ استیناس کے ذریعہ گھروالوں کو اپنی طرف متوجہ کرلےگا تو گھر والے دیکھ لیں گے کہ وہ کون ہے اور آیا اُس سے ملنا ضروری ہے یا غیر ضروری۔اگر ضروری ہوگا تو وہ بلالیں گے اور اگر ضروری نہیں ہو گا تو اُسے جواب دے دیں گے۔ٍ پھر فرماتا ہے فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى يُؤْذَنَ لَكُمْ اگرگھر میں کوئی شخص موجود نہ ہو اور وہ کہیں باہر گئے ہوئے ہوں تو تم ان کی واپسی کا انتظار کرو اور اُن کی اجازت کے بغیر مکان میں مت داخل ہو۔وَ اِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ اور اگرتم کو کہہ دیا جائے کہ جائو ہم مل نہیں سکتے۔ہمیں اس وقت فرصت نہیں تو پھر تمہارا فرض ہے کہ واپس چلے جائو۔یہ نہیں کہ دھرنا مار کر بیٹھ جائو کہ ہمیں ضرور آنے کی اجازت دی جائے۔صحابہ ؓ میں احکام شریعت کو پورا کرنے کی اس قدر تڑپ پائی جاتی تھی کہ ایک صحابی ؓ کہتے ہیں۔مجھے سالہا سال یہ خواہش رہی کہ میں کسی کے ہاں جائوں اوروہ مجھے کہے کہ واپس چلے جائو تاکہهُوَ اَزْكٰى لَكُمْ کے ماتحت میں ثواب حاصل کر سکوں مگر مجھے کبھی ایسا موقعہ نہیں ملا ( فتح البیان زیر آیت ھٰذا ) اس سے صحابہ ؓ کی اُس محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تھی۔ایک شخص سالہا سال اس موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے کہ مجھے کبھی یہ سُننے کا موقعہ