تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 480
اجازت مانگنے کے ہی کئے ہیں۔(بحر محیط ) اگر اس قرآنی ہدایت پر عمل کیا جائے تو دنیا کے بہت سے فسادات اور جھگڑے مٹ جائیں بعض لوگ بڑی سادگی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ یونہی ہماری نظر پڑگئی تھی اور اس بنا پر وہ دوسرے پر اتہام لگا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعہ اس قسم کی خرابیوں کو بھی دور کر دیا۔اگر کوئی شخص کہے گا کہ جھانک کر دیکھنے سے میں نے فلاں کو اس حالت میں دیکھا تھا۔تو قاضی کہےگا کہ تو جھانکا کیوں تھا ؟ تیری گواہی قابلِ قبول نہیں کیونکہ تو نے خود شریعت کے حکم کو توڑا ہے۔دوسرے اس ہدایت پر عمل کرنے سے خود انسان بہت سے ایسے مواقع سے بچ جاتا ہے جن کی وجہ سے وہ اتہام کا نشانہ بن سکتا ہے۔تیسرے آپس کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی۔اگر دوسروں کے گھروں میں آنے جانے کے لئے اجازت کی شرط نہ ہو تو ایسی صورت میں جبکہ میاں بیوی بے تکلفی کی حالت میں بیٹھے ہوں اُن کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔پھر اگر اجازت لینا ضروری نہ ہوتا تو چوریوں کی وارداتیں بھی بڑھ جاتیں۔ایک شخص چوری کی نیت سے اندر داخل ہو جاتا اور جب پکڑا جاتا تو کہتا میں تو ملنے آیا تھا۔غرض ان احکام میں بیسیوں فوائد مخفی ہیں مگر آج کل جہاں دوسروں کے گھروں میں داخل ہو نے سے پہلے لوگ عموماً اجازت لے لینے کے عادی ہیں وہاں استیناس کرتے وقت السلام علیکم کہنے کا بہت کم رواج ہے۔وہ صرف زور زور سے دستک دینا او ر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں یا باہر کھڑے کھڑے بلند آواز سے گھر والے کا نام لے کر بلانا شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ استیناس کے ساتھ سلام کہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آیا اور اُس نے کہا۔یا رسول اللہ ! میں اندر آجائو ں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خادم کو بلایا اور اُسے فرمایا کہ جائو اور اسے اجازت حاصل کرنے کا طریق بتائو۔جویہ ہے کہ پہلے السلام علیکم کہے۔اور پھر دریافت کرے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ( فتح البیا ن فی مقاصد القرآن زیر آیت ھٰذا۔ابو داؤد کتاب الادب باب کیف الإستئذان ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے سلام کہنا چاہیے اور پھر اجازت لینی چاہیے۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ اگر ایک دفعہ جواب نہ ملے تو وقفہ وقفہ کے بعد تین دفعہ السلام علیکم کہنا چاہیے (بخاری کتاب ا لاستئذان باب التسلیم والاستئذان ثلاثا)۔لیکن بعض لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے اجازت لینی چاہیے اور پھر سلام کہنا چاہیے (تفسیر مظہری زیر آیت ھٰذا)کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں کہ تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا یعنی استیناس کا پہلے ذکر آتا ہے اور سلام کا بعد میں مگر ان کا یہ استدلال درست نہیں بیشک اس جگہ استیناس کا پہلے ذکر آتا ہے۔مگر استیناس کے معنے استعلام اور استکشاف کے ہیں۔یعنی اس بات کا علم