تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 479
تَسْتَاْنِسُوْا کے معنے ہیں تَسْتَاْذِنُوْا یعنی تم کسی کے گھر میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم اجازت حاصل نہ کرلو۔وَلِذٰلِکَ جَآءَ فِی التَّفْسِیْرِ تَسْتَاْنِسُوْا فَتَعْلَمُوْا اَیُرِیْدُ اَھْلُھَا اَنْ تَدْخَلُوْا اَمْ لَا۔اسی واسطے تَسْتَاْ نِسُوْا کی تشریح میں یہ آیا ہے کہ اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ تم معلوم کرو کہ کیا گھر والے یہ چاہتے ہیں کہ تم اندر آئو یا نہیں۔(لسان العرب) تفسیر۔قرآن کریم کا طریق ہے کہ وہ اصلاح خلق کے لئے ایسی ہدایات دیتا ہے جو بدی کی جڑ کو کاٹنے والی ہوتی ہیں۔چونکہ بعض لوگ بدظنی کی طرف بہت جلد مائل ہو جاتے ہیں اس لئے اُس نے حکم دے دیا کہ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں بغیر اجازت اور بغیر گھرو الوں کو سلام کرنے کے داخل نہ ہوا کرو۔تاکہ کوئی شخص تم پر چوری یا بدکاری کی بدظنی نہ کرے۔اگر تم اجازت لے لو گے یا سلام کہہ لو گے تو پھر ہر ایک شخص کو پتہ لگ جائےگا کہ گھر کے تمام مردوں اور عورتوں کو تمہارے اندر داخل ہو نے کا علم ہے اور اس صورت میں نہ تم پر کوئی چوری کا الزام لگا سکے گا اور نہ بدکاری کا۔اور اگر یہ سوال ہو کہ گھر میں کوئی ہو ہی نہ۔تو پھر کیا کیا جائے تو اس کا جواب یہ دیا کہ اس صورت میں گھر میں داخل ہی نہ ہو۔جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے یعنی اُس وقت تک انتظار کرو جب تک کہ خاندان کے مردوزن واپس نہ آجائیں تاکہ تم پر چوری کا الزام نہ لگ سکے اور گھر کے افراد کے واپس آنے کے بعد اگر اجازت مل گئی تو تم بدکاری کے الزام سے بھی محفوظ ہو جاؤ گے۔پھر سوال ہو سکتا تھا کہ اگر گھر کے افراد تو موجود ہوں مگر وہ اجازت نہ دیں تو پھر کیا کریں۔اس کا جواب یہ دیا کہ گھرو الے اپنے گھر کے مالک ہیں اگر وہ اجازت نہ دیںتو اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائو۔انگریز اپنی زبان کے اس محاورہ پر بڑا فخر کیا کرتے ہیں کہ ـ’’ انگریز کا گھر اس کا قلعہ ہوتا ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شخص بلا اجازت داخل نہیں ہو سکتا۔لیکن ان میں تو یہ بات آج آئی ہے۔اور قرآن نے اس وقت یہ قانون بنایا جب انگریز ابھی ننگے پھرا کرتے تھے اور بندروں سے زیادہ اُ ن کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔یہ آیات جو تمدّنی زندگی سے تعلق رکھنے والے بعض نہایت ہی لطیف احکام پر مشتمل ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے کہ کسی دوسرے کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کر لیا کرو۔اِسْتِیْنَاس کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہےاس بات کا علم حاصل کرنے کی کوشش کے ہیں کہ آیا گھر والے ملاقات کرنا پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے ( بحرِ محیط زیر آیت ھٰذا) اسی طرح اس کے ایک معنے اجازت حاصل کرنے کے بھی ہیں۔چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی معنے مروی ہیں اور انہوں نے تَسْتَاْنِسُوْا کے معنے تَسْتَاْ ذِنُوْا یعنی