تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 474

اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا وہ لوگ جو کہ پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں جو( شریروں کی شرارت سے )غافل ہیں (اور) ایماندار ہیں اُن فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌۙ۰۰۲۴ پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جائےگی اور اُن کے لئے بڑا عذاب ہو گا۔حلّ لُغَات۔لُعِنُوا۔لَعْنَہٗ لَعْنًا کے معنے ہوتے ہیں طَرَدَہٗ اُس کو دھتکار ا۔وَاَبْعَدَہٗ مِنَ الْخَیْرِ اور اُس کو بھلائی سے دور کیا۔وَاَخْزَاہُ اور اس کو ذلیل کیا۔وَسَبَّہٗ اور اُس کو گالی دی اسی طرح اس کے ایک معنے عذاب کے بھی ہیں۔( اقرب) تفسیر۔یعنی شریف اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانےوالوں کی اصل سزا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور وہ سزا یہ ہوتی ہے کہ اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے۔لعنت کے معنے عربی زبان کے لحاظ سے دوری کے ہوتے ہیں۔پس بدکاری کا الزام لگانے والوں کو لعنتی قرار دینے سے یہ مراد ہے کہ ایسے لوگوں سے دنیا میں بھی شریف آدمی تعلق رکھنا پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ سوسائٹی کو خراب کرنے والے ہیں اگر ہم نے ان سے تعلق رکھا تو یہ لوگ ہمارے خاندانوں کو بدنام کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن ان کو کوئی انعام نہیں دےگا بلکہ انہیں سزا کا مستحق قرار دے گا۔يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ اُس دن جبکہ اُن کی زبانیں بھی اور ان کے ہاتھ بھی اور اُن کے پائوں بھی اعمال کے متعلق جو وہ کرتے تھے ان بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۵يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ کے خلاف گواہی دیں گے۔اُس دن اللہ( تعالیٰ) اُن کو اُن کا صحیح بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ( تعالیٰ) ہی الْحَقَّ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ۰۰۲۶ صدقِ مجسم ہے ایسا صدق جو اپنے آپ کو آپ ظاہر کر دیتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے اُس دن کو یاد کرو جبکہ اُن کی زبانیں اور اُن کے ہاتھ اور اُن کے پائوں اُن کے خلاف