تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 467
داخل ہو نے کی کوشش کروںگا۔انہوں نے فرمایا۔اچھا فرض کرو دوسری دفعہ بھی کُتا بھاگ گیا لیکن جب پھر تم دوست سے ملنے کے لئے مکان کے اندر داخل ہونے لگے تو وہ پھر تمہیں پکڑ لے تو آخر تم کیا کرو گے ؟ وہ کہنے لگا میں پھر اُسے ماروںگا اور اُسے ہٹانے کی پوری کوشش کروںگا۔وہ بزرگ فرمانے لگے۔اگر یہ جنگ اسی طرح جاری رہی کہ جب تم مکان کے اندر داخل ہونا چاہو تو کُتّا تمہاری ایڑی پکڑ نے لگے اور جب تم اُسے مارو تو وہ بھاگ جائے لیکن جب پھر مکان کے اندر داخل ہونے لگو تو وہ پھر آکر پکڑ لے تو تم اپنے دوست سے مل کس طرح سکو گے ؟اور اُس سے ملاقات کرنے کا جو مقصد تم لئے ہوئے ہو گے وہ کس طرح پورا ہوگا ؟ شاگرد کہنے لگا جب میں یہ دیکھوں گا کہ یہ جنگ کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتی اور کتّا بار بار مجھے پکڑ لیتا ہے تو میں اپنے دوست کو آواز دوںگا کہ میاں تمہارا کتّا مجھے نہیں چھوڑتا اسے آکر ہٹا ئو۔وہ بزرگ فرمانے لگے بس یہی نسخہ شیطان کے مقابلہ میں بھی استعمال کرنا۔شیطان اللہ میاں کا کتّا ہے اور جب یہ انسان پر بار بار حملہ آور ہو اور اللہ تعالیٰ کے قریب نہ ہونے دے تو اُس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو پکارو او راُسے آواز دو کہ اللہ میاں !میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں مگر آپ کا یہ کتّا مجھے آنے نہیں دیتا۔اسے روکئے تاکہ میںآپ کے پاس پہنچ جائوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اُسے روک لےگا اور تم شیطان کے حملہ سے محفوظ ہو جائو گے۔غرض طہارتِ کا مل جس کے بعد کوئی ارتداد اور فسق نہیں ہوتا محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ حاصل ہوتی ہے جسے انسانی دعائیں اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔پھر اس آیت میں بدی کو روکنے کے متعلق اللہ تعالیٰ ایک اور لطیف نکتہ بیان فرماتا ہے پہلے تو یہ بتایا تھا کہ ایک دوسرے کے متعلق بے بنیاد باتوں کا اپنی مجالس میں تذکرہ کرتے رہنا قوم کے اخلاقی معیار کو تباہ کر دیتا ہے۔اب مومنوں کو ایک اور بات کی طرف توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے۔اے مومنو ! تم شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔اس لئے کہ جو شخص شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے گا۔وہ بدی اور بدکاری میں مبتلا ہو جائےگا کیونکہ شیطان فحشاء اور منکر کا حکم دیتا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر برائی جو دنیا میں پھیلتی ہے اُس کی ابتداء بھیانک نہیں ہوتی۔شیطان کا یہ طریق نہیں کہ کوئی خطرناک بات کرنے کے لئے ابتدا ء میں ہی انسان کو تحریک کرے کیونکہ انسان کی فطرت میں حیاء و شرم کا مادہ رکھا گیا ہے۔اس لئے جس کا م کو انسان صریح طور پر برا سمجھے اُس کو فوری طور پر کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا۔مثلاً شیطان اگر کسی کو سیدھا ہلاکت کی طرف لے جانا چاہے تو وہ نہیں جائےگا۔ہاں چکر دے کر لے جائے تو چلا جائےگا۔پس شیطان پہلے ہی کسی بڑی بدی کی تحریک نہیں کرتا۔بلکہ پہلے چھوٹی برائی کی جو