تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 464
سے زیادہ اُن کے اخلاص اور ایمان میں ترقی ہو گئی ہے۔جماعتی چندوں کو ہی دیکھ لو۔اگر عام طور پر یہ ذکر ہو کہ لوگ چند ہ نہیں دیتے تو یہ معمولی بات سمجھی جا ئےگی لیکن اگر یہ کہا جائے کہ کوئی شاذ ہی ہوگا جو چند ہ نہ دیتا ہو تو ہر ایک کو اس کی اہمیت کا احساس ہوگا اور وہ چندہ میں کمزوری نہیں دکھا ئےگا۔اسی طرح یہ گُر سب نقائص اور کمزوریوں پر حاوی ہے۔اور تمام خرابیوں کی اس کے ذریعہ اصلاح ہو سکتی ہے۔تم جس فعل کو روکنا چاہو اس کے اتہام کو روکو اور اس کے اُلٹ جس نیکی کو قائم کرنا چاہو۔اُس کو پھیلائو اور اُسے اہمیت دو۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھو کہ فرائض کی ادائیگی پر کسی کو کوئی خاص عظمت نہ دو۔مثلاً کوئی شخص حج کرکے آتا ہے تو یہ نہ کہو کہ یہ بڑا نیک اور پار سا ہے کیونکہ حج کرنا تو اس کا فرض تھا جسے اُس نے ادا کیا۔اسی طرح نماز ، روزہ اور زکوٰۃ ہے۔ان کو ادا کرنے کی وجہ سے کسی کی تعریف نہ کرو کیونکہ اگر اُن کی وجہ سے کسی کی تعریف کی جائےگی کہ وہ بڑا نیک اور پار سا ہے تو جو ان کو ادا نہیں کرتا وہ کہےگا کہ اچھا میں ایسا نیک اور پارسا نہ سہی معمولی مسلمان تو ہوں لیکن جب اُن کا ادا کرنا ہر ایک مومن کا فرض بتا یا جائےگا تو اسے معلوم ہو گا کہ ان کو اد اکئے بغیر تو میں معمولی مسلمان بھی نہیں بن سکتا۔پس اس بات کو یاد رکھو اور جو نواہی ہیں اُن کے اتہام کو برا سمجھو اور انہیں کبھی اپنی قوم میں پھیلنے نہ دو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تھوڑے ہی عرصہ میں تمہارے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہو جائے گا۔اور تم قومی اصلاح کے کام میں کامیاب ہو جائو گے۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ اے مومنو! شیطان کے قدموں پر مت چلو اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے وہ جان لے کہ شیطان يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّهٗ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ بدیوں اور نا پسندیدہ باتوںکا حکم دیتا ہے اور اگر اللہ (تعالیٰ) کا فضل اور رحم تم پر نہ ہوتا تو کبھی بھی تم میں سے کوئی وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ پاک باز نہ ہوتا۔لیکن اللہ (تعالیٰ) جس کو چاہتا ہے پاکباز بنا دیتا ہے۔اور اللہ