تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 463
چھوٹے سے تالاب کی صورت میں بد ل گیا جس کا پانی نہیں بہتا جس میں بُو تو پیدا ہو جاتی ہے۔مگر خوشنمائی اور دلکشی باقی نہیں رہتی۔پس یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ یہ درحقیقت آپ نے ایک بہت بڑا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا تھا۔اگر قوم کے لیڈر اس حدیث کو ہی یاد رکھتے اگر وہ اپنی قوم کو مایوس نہ کرتے۔اگر وہ اپنی جہالت سے اُن کو یہ نہ کہتے کہ تمہارے لئے اب ترقی کا کوئی امکان نہیں۔تو مسلمان روحانی میدان میں بھی آگے رہتے۔اقتصادی میدان میں بھی آگے رہتے۔علمی میدان میں بھی آگے رہتے اور سائنٹفک میدان میں بھی آگے رہتے۔مگر ہمارے ہاں تو یہاں تک مصیبت بڑھی کہ مذہب تو الگ رہا مسلمانوں نے دنیوی علوم بھی پہلے لوگوں پر ختم کر دئیے۔بو علی سینا کے متعلق کہہ دیا کہ اُس نے طب میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔منطق کے متعلق کہہ دیا کہ اس بارہ میں فلاں منطقی جو کچھ لکھ گیا ہے اُس کے بعد منطق کے علم میں کوئی زیادتی نہیں کی جا سکتی۔اسی طرح ایک ایک کرکے سارے علوم کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ اُن کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ لکھ چکے ہیں۔اُن سے زیادہ اب کوئی شخص نہیں لکھ سکتا۔گویا انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ھَلَکَ الْقَوْمُ جو کچھ پہلوں کو مل گیا وہ اب دوسروں کو نہیں مل سکتا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان بالکل تباہ ہو گئے۔نہ مسلمانوں میں خدا پرست رہے۔نہ مسلمانوں میں فقیہہ رہے۔نہ مسلمانوں میں قاضی رہے نہ مسلمانوں میں عارف رہے نہ مسلمانوں میں محدث رہے کیونکہ جو چیز بھی تھی اُسے گذشتہ لوگوں پر ختم کر دیا گیا اور قوم کو مایوس کر دیا گیا۔غرض اس آیت میں خدا تعالیٰ نے قوم کی اصلاح کا یہ ایک لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ جس فعل کو روکنا چاہو تم اُس کی تشہیر کو روکو اور قوم کو مایوسی کا شکار نہ ہو نے دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہر بدی کی جڑ کو پکڑ تا ہے اور اُسے اکھیڑتا ہے۔اسی کے مطابق قرآن کریم بتاتا ہے کہ جس بدی کو تم روکنا چاہو اُس کے اتہام کو روکو۔اور اسی کا الٹ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جس نیکی کو قائم کرنا چاہو اُس کی عظمت اور اہمیت پھیلائو مثلاً نماز ہے۔اس کے متعلق کہا جائے کہ ایسے اہم فریضہ کو کون چھوڑ سکتا ہے؟یا چوری ہے اس کے متعلق کہا جائے کہ کیا اتنا بڑا گناہ کوئی کر سکتا ہے ؟ اس قسم کی باتیں جس شخص کے کان میں بھی پڑیں گی وہ ان کو بہت اہم سمجھے گا اور ان کے متعلق احتیاط سے کام لے گا۔تم اپنے اندر اس کے مطابق تغیر کر کے دیکھ لو۔تین چار سال میں ہی تمہیں اپنے اندر بہت بڑا فرق نظر آئےگا۔اور تمہیں محسوس ہوگا کہ افرادِ جماعت میں پہلے سے زیادہ بیداری پائی جاتی ہے پہلے سے زیادہ اُن میں نیکیوں کو اختیار کرنے اور بدیوں سے بچنے کا جذبہ پا یا جا تا ہے اور پہلے