تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 458

بڑا ہو کر جانوروں کا چور بنتا۔ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست جواَب مخلص احمدی ہیں جب شروع شروع میں آئے تو اُن کا ایک لڑکا اُن کے ساتھ تھا جس کے سر پر پگڑی نہیں تھی حضرت ام المومنین ؓ نے گھر میں اُن کی اہلیہ سے دریافت کیا کہ اس بچے کے سر پر پگڑی کیوں نہیں۔تو اُس نے بتا یا کہ جب یہ کسی کی بھینس چُرا کر اپنی بہن کو لادےگا تب اس کے سر پر پگڑی باندھی جائےگی۔کیونکہ یہ ہمارے علاقہ کا دستور ہے۔گو وہ دوست ہمیشہ یہ واقعہ سن کر شرمندہ ہوا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات نہیں تھی۔میرے گھر والوں نے صرف ہنسی سے ایسا ذکر کیا تھا۔مگر بہرحال اُن کے علاقہ میں یہ رواج تو تھا۔تبھی اُن کی اہلیہ نے اس کا ذکر کیا یہی بات ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے سنی تو اس کا اُن پر اتنا اثر ہوا کہ ایک دفعہ جبکہ مجلس میں بعض اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔بر سبیل تذکرہ وہ کہنے لگے کہ گجرات کا ہر شخص چور ہوتا ہے۔میرے ذہن میں اس وقت یہ واقعہ نہیں تھا میں نے کہا یہ صحیح نہیں ہر علاقہ میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں۔کہنے لگے نہیں گجرات کا ہر شخص چور ہوتا ہے۔میں نے کہا میر صاحب آپ کی یہ بات درست نہیں۔ہماری جماعت میں بھی اس علاقہ کے لوگ شامل ہیں اور وہ بڑے نیک ہیں وہ میری اس بات پر بھی کہنے لگے۔خواہ کچھ ہو چور ضرور ہوںگے۔میرا ذہن اس وقت تک بھی اس قصہ کی طرف نہیں گیااور میں نے چند دوستوں کے نام لئے کہ دیکھیں فلا ں دوست کیسے نیک ہیں۔فلاں دوست کیسے نیک ہیں۔وہ کہنے لگے اگر وہ گجرات کے ہیں تو ضرور چو ر ہوںگے۔اس دوران میں چونکہ ایک مذاق کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔اس لئے میں نے نام لے کر کہا کہ حافظ روشن علی ؓ صاحب بھی گجرات کے علاقہ کے ہیں۔کیا وہ بھی چور ہیں۔میرے اس جواب پر میر صاحب کہنے لگے۔حافظ روشن علی صاحب گجرات کے ہیں ؟ میں نے کہا ہاں ! اس پر وہ پہلے تو ذرا رک گئے مگر پھر کہنے لگے اگر وہ گجرات کے ہیں تو وہ بھی چو ر ہوںگے۔آخر میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ اتنے وثوق سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہاں تود ستورہے کہ بچہ کے سرپر اُس وقت تک پگڑی نہیں باندھتے جب تک وہ ایک بھینس چُرا کر اپنی بہن کو نہ دے۔اب یہ رسم جو ان علاقوں میں ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ ان اضلاع میں چونکہ ہر وقت جانوروں کی چوری کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس لئے سارے علاقہ میں چوری کا رواج ہوگیا۔یو ں اگر و ہ سنیں کہ کسی نے دوسرے کا روپیہ اُٹھا لیا ہے تو وہ بھی برا مناتے ہیں لیکن جانوروں کی چوری کے ذکر پر اُن کے دلوں میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا ذکر اُن میں عام ہے۔اور جس بدی کا ذکر عام ہو جائے وہ قوم کے افراد میں پھیل جاتی ہے۔اسی طرح پٹھانوں میں قتل کا رواج ہے اور وہ اسے کوئی عیب نہیں سمجھتے کیونکہ ہر وقت ان میں قتل کا چرچا رہتا ہے۔مشہور ہے کہ کسی پٹھان