تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 455
وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ اس بات کو سُنا تھا تو فوراً کہہ دیا کہ یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم اس بات کو آگے دوہرائیں۔بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۷يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ اے خدا تو پاک ہے یہ بہت بڑا بہتان ہے۔اللہ (تعالیٰ) تم کو اس قسم کی بات کے دوبارہ کرنے سے ہمیشہ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۸وَ يُبَيِّنُ کے لئے روکتا ہے اگر تم مومن ہو۔اور اللہ (تعالیٰ) تمہارے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے۔اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۰۰۱۹ اور اللہ (تعالیٰ) بہت جاننے والا حکمت والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَفَضْتُمْ۔اَفَضْتُمْ اَفَاضَ سے جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اَفَا ضَ الْقَوْمُ فِی الْحَدِیْثِ کے معنے ہوتے ہیں لوگ باتوں میں لگ گئے ( اقرب) پس اَفَضْتُمْ فِیْہِ کے معنے ہوںگے جس کے بارہ میں تم باتوں میں لگ گئے تھے۔تَلَقَّوْنَہٗ۔تَلَقَّوْنَہٗ تَلَقّٰی سے جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔اور تَلَقّٰی الشَّیْ ئَ مِنْہُ کے معنے ہوتے ہیں تَلَقَّنَہٗ اُس سے کسی بات کو سیکھا اور قبول کیا ( اقرب )پس تَلَقَّوْنَہٗ کے معنے ہوںگے تم اس کو سیکھتے تھے۔ھَیِّنٌ ھینکہتے ہیں ھَانَ الْاَمْرُ عَلیٰ فُلَانٍ اور معنے یہ ہوتے ہیں کہ سَھُلَ یعنی یہ بات فلاں پر آسان ہوگئی ( اقرب) پس ھَیِّنٌ کے معنی ہوںگے معمولی اور آسان بات۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ اس طرح اُن لوگوں پر الزام لگانا جو قوم کے لئے اپنی جانیں دینے کے لئے نکلتے ہیں نہایت خطرناک گناہ ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مسلمانوں کو بچانا نہ چاہتا تو اس گناہ کے بدلہ میں تمہیں بڑی سخت سزا ملتی۔جبکہ تم دوسروں سے ایک بات سُن کر اپنی زبانوں سے دہراتے چلے جاتے تھے۔اور ایسی باتوں کا چرچا کرتے تھے جن کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا۔او رقومی خادموں کے متعلق ایسی باتیں کہنا آسان سمجھتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑا جرم تھا۔