تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 449

عَذَابٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۲ اس کو بہت بڑا عذاب ملے گا۔حلّ لُغَات۔اَلْاِفْکُ۔اَلْإِفْکُ: اَلْکِذْبُ یعنی افک کے معنے جھوٹ کے ہیں۔(اقرب) عُصْبَۃٌ۔عُصْبَۃٌجماعت کو کہتے ہیں لیکن بعض کے نزدیک تین سے دس افراد تک کی جماعت کو عُصبہ کہتے ہیں اور بعض صرف دس افراد کی جماعت کو عصبہ کہتے ہیں۔بعض دس سے پندرہ افراد تک کی جماعت کو عصبہ کہتے ہیں۔اور بعض کہتے ہیں کہ دس سے لے کر چالیس تک کی جماعت کو عُصبہ کہا جاتا ہے۔( اقرب ) تفسیر۔اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غزوۂ بنو مصطلق میں پیچھے رہ گئی تھیں۔اور قافلہ چلا آیاتھا۔اور منافقوں نے آپ پر ایک نہایت ہی گندہ اور ناپاک الزام لگا دیا تھا۔یہ واقعہ یوں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ تشریف لے جاتے تو بالعموم امہات المومنین میں سے کسی کو ساتھ لے جاتے اُن کے لئے باری مقرر نہ تھی بلکہ آپ قرعہ ڈالتے اور جن کا نام نکلتا انہیں آپ اپنے ساتھ لے جاتے۔غزوۂ بنو مصطلق پر جاتے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام نکلا اور انہیں آپ اپنے ساتھ لے گئے۔جب واپس آئے تو مدینہ کے قریب ایک جگہ ڈیرہ لگایا گیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رات کے وقت قضائے حاجت کی ضرورت پیش آئی اور آپ لشکر سے باہر تشریف لے گئیں۔جب واپس آئیں تو معلوم ہوا کہ اُن کا ہار کہیں اُس جگہ گِر گیا ہے۔چنانچہ آپ ہار کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ باہر تشریف لے گئیں۔اتنے میں قافلہ کے چلنے کا وقت آگیا۔اور چونکہ ان دنوں آپ بہت دبلی پتلی تھیں۔قافلہ کے منتظم نے اُن کا ہودج اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور سمجھا کہ اندر ہی ہوںگی۔جب واپس آئیں تو قافلہ روانہ ہو چکا تھا۔انہیں سخت پریشانی ہوئی۔مگر پھر یہ خیال کرکے کہ جب لوگوں کو اُن کے پیچھے رہ جانے کا علم ہو گا تو وہ ضرور واپس آئیں گے آپ وہیں بیٹھ گئیں۔مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی آپ کو نیند آگئی اور آپ وہیں زمین پر سو گئیں۔جب صبح ہوئی تو ایک صحابی جن کا نام صفوان بن معطلؓ تھا اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے پیچھے چھوڑ دیا تھا کہ دن چڑھے دیکھ لینا کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی وہ ادھر اُدھر گرے پڑے سامان کی تلاش میں وہاں سے گذرے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت لیٹی ہوئی ہے۔پاس آئے تو معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں سور ہی تھی کہ میرے کان میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کی آواز آئی۔اُس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔مگر چونکہ جنگل میں