تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 448

تفسیر۔فرماتا ہے وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر بد کاری کا الزام لگاتے ہیں اور کوئی بیرونی گواہ نہیں رکھتے صرف ان کا نفس ہی گواہ ہوتا ہے اُن میں سے ہر شخص چار دفعہ حلفیہ گواہی دے کہ واقعی میں نے اپنی عورت کو بدکاری کرتے دیکھا ہے اور میں سچا ہوں اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔جب خاوند اس طرح قسم کھا چکے تو عورت بھی چار دفعہ قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔جب دونوں طرف سے قسمیں کھا لی جائیں توپھر ان دونوں کو جُدا کر دیا جائے گا۔یعنی خلع کا حکم دے دیا جائےگا لیکن اگر خاوند بیوی پر قذف تو کرے مگر نہ گواہ لائے نہ لعان کرے۔تو خاوند پر حدلگے گی (یعنی اُسے اَسّی کوڑے لگیں گے ) ہا ں اگر وہ لعان کرلے تو پھر وہ حد سے آزاد ہو جائےگا یعنی کوڑے کھانے سے بچ جائےگا۔لیکن اگر بیوی بھی لعان کردے تو پھر بیوی پر زنا کا الزام ثابت نہیں ہوگا اور دونوں طرف کا معاملہ برابر سمجھا جا ئے گا یہ لعان کسی مخفی مقام پر نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا شخص اوّل لوگوں کے مجمع میں قسم کھائے دوم کسی مقدس مقام پر قسم کھائے۔سو م جب وہ لعنت کرنے لگے تو اس کو کہا جائے کہ دیکھو خوب سو چ سمجھ لو۔خدا کی لعنت جس شخص پر نازل ہوتی ہے اسے تباہ کر دیتی ہے۔پھر فرماتا ہےوَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِيْمٌ۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اُس کی رحمت تمہاری دست گیری نہ کرتی اور وہ اس قسم کے حکموں سے تمہاری عزت نہ بچا تا تو تم تباہ ہو جاتے۔اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ یقیناًوہ لوگ جنہوں نے ایک بڑا اتہام باندھا تھا تمہیں میں سے ایک گروہ ہے۔تم اس (فعل) کو شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اپنے لئے بُرا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہت اچھا تھا (کیونکہ اس کی وجہ سے ایک پُر حکمت تعلیم تم کو مل گئی) اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ اُن میں سے ہر شخص کو اس نے جتنا گناہ کیا تھا اس کی سزا مل جائےگی اور جو شخص اس گناہ کے بڑے حصّہ کا ذمہ وار تھا