تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 440
چار دفعہ اقرار کرنے کے باوجود بعد میں انکار کر دے تو اس کو حد زنا نہیں لگے گی۔ہاں اگر اُس نے کسی عورت کا نام لیا ہو تو حدِقذف اس کو لگے گی۔کیونکہ اُس نے ایک عورت پر زنا کا الزام لگایا۔قذف کے متعلق فقہاء میں یہ بحث ہے کہ وہ کس طرح ہوتا ہے۔اگر صریح ہو تو اس پر حد ہے اور اگر کنایۃً ہو جیسے یہ کہہ دے کہ اے فاسقہ یا اے مؤا جرہ یا اے ابنۃا لحرام تو اُسے قذف نہیں سمجھا جائے گا۔جب تک اُس کے ساتھ نیت نہ ہو بلکہ عام طور پر یہ گالی سمجھی جائے گی۔اور اگر تعریضاً ہو جیسے کوئی کہے کہ میں تو زانی نہیں اور وہ اشارۃً یہ کہنا چاہتا ہو کہ تو زانی ہے یا کسی کو مخاطب کرتے ہو ئے کہہ دے کہ اے ابن حلال اور اس کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب ابن حلال نہیں تو امام شافعی ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک تو تعریض قذف نہیں لیکن امام مالک ؒ کے نزدیک قذف ہے اور امام احمد ؒ کے نزدیک غصہ کی حالت میں ایسا کہا گیا ہو تو قذف ہے ورنہ نہیں (تفسیر کبیر لامام فخر الدین رازی زیر آیت ھٰذا)۔لیکن میرے نزدیک جو کلام بھی کسی ایسے رنگ میں ثابت ہو جائے کہ اُس کے سُننے والوں پر کسی الزام کا اثر ڈالنا مقصود ہو تو وہ قذف ہے اور اسی طرح قابلِ سزا ہے ، جس طرح آزاد آدمی اگر قذف کرے تو اس کے لئے اَسّی کوڑے سزا مقرر ہے۔اگر غلام قذف کرے تو اس کے لئے چالیس کوڑوں کی سزا مقرر ہے۔لیکن اس کا فیصلہ قاضی کرے گا پبلک کا کام نہیں کہ اس کا فیصلہ کرے۔اگر غیر شادی شدہ عورت یا غیر شادی شدہ مرد پر کوئی قذف کرے تو قرآن کی رُو سے اس پر کوئی حد نہیں ہاں قانون یا قاضی مناسب حال سزا اس کے لئے تجویز کرےگا۔گویا ایسے مقدمہ کا فیصلہ صرف اس بنا پر ہوگا کہ قاضی اس کو مجرم قرار دے دے۔اس کے بعد حکومت اس سے مجرموں والا سلوک کرے گی ورنہ نہیں۔گویا اسلام نے دونوں کو پابند کردیا۔قاضی کو طریق شہادت سے پابند کر دیا اور حکومت کو قاضی کے فیصلہ سے پابند کر دیا۔اور اگر کوئی شخص کسی غیر محصنہ پر جس کو پہلے کبھی سزا مل چکی ہو الزام لگائے تو اس کو تعزیر کی سزا ملے گی۔کیونکہ پھر عزت کا سوال نہیں بلکہ فتنہ ڈالنے کا سوال ہو گا۔لیکن اگر الزام کسی ایسے شخص پر لگا یا جائے جو مشہور بد نام اور آوارہ ہو اور قاضی بھی اُسے بد نام اور آوارہ قرار دےدے تو پھر الزام لگانے والے کو صرف فتنہ پیدا کرنے کی سزا دی جائےگی۔یہ بھی فقہاء نے بحث کی ہے کہ گو یہاں محصنات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے محصنین کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا مگر اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جبکہ مردوں کے ذکر میں عورتیں شامل سمجھی جاتی ہیں تو عورتوں کے ذکر میں مرد کیوں نہ شامل سمجھے جائیں گے۔پس وہ اس آیت کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے سمجھتے ہیں۔پھر فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اس جگہ محصنات کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اور محصنین کا نہیں کیا گیا تو اس سے اس طرف