تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 439
شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ۰۰۵ کی) اطاعت سے خارج ہیں۔حلّ لُغَات۔یَرْمُوْنَ۔یَرْمُوْنَ رَمَاہُ یَرْمِیْہِ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور رَمَا فُلَا نًا بِکَذَا کے معنے ہوتے ہیں عَابَہٗ وَقَذَفَہٗ وَاتَّھَمَہٗ ( اقرب)یعنی اس پر الزام اور اتہام لگایا۔پس یَرمُوْنَ کے معنے ہوںگے وہ الزام لگاتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں الزام زنا کی شہادت کا طریق بیان کیا گیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ دوسرے پر زنا کا الزام لگانے والا چار گواہ لائے جو اس الزام زنا کی تصدیق کرتے ہوں۔مگر رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ ؓ کے اقوال سے ثابت ہے کہ اگر گواہ مختلف جگہوں کے متعلق شہادت دے رہے ہوں تو وہ شہادت ہر گز تسلیم نہیں کی جائے گی۔اور چاہے وہ چار گواہ ہوں پھر بھی وہ ایک ہی گواہی سمجھی جائےگی۔یہ ضروری ہے کہ ایک ہی واقعہ اور ایک ہی جگہ کے متعلق الزام لگانے والے کے علاوہ چار عینی شاہد ہوں اور دوسرے اُن کی گواہی اتنی مکمل ہو کہ وہ اس فعل کی تکمیل کی شہادت دیں۔فقہاء نے لکھا ہے کہ وہ چار وں گواہ یہ گواہی دیں کہ انہوں نے مرد وعورت کو اس طرح اکٹھے دیکھا ہے جس طرح سرمہ دانی میں سلائی پڑی ہوئی ہوتی ہے (مختصر القدوری کتاب الحدود )۔فقہاء کے نزدیک مجرم پر حدّزنا تین طرح لگتی ہے۔اوّل۔قاضی کے علم سے۔دوم اقرار سے۔سوم چارگواہوں کی شہادت سے۔مگر قاضی کے علم سے حد لگا نا میرے نزدیک قرآن کریم کی رو سے غلط ہے کیونکہ قاضی بہر حال ایک شاہد بنتا ہے۔لیکن قرآن کریم کی رو سے پانچ شاہد ہونے چاہئیں۔ایک الزام لگانے والا اور چار مزید گواہ بلکہ میرے نزدیک اگر قاضی کو کوئی ایسا علم ہو تو اُسے وہ مقدمہ سننا ہی نہیں چاہیے۔بلکہ اس مقدمہ کو کسی دوسرے قاضی کے پاس بھیج دینا چاہیے اور خود بطور گواہ پیش ہونا چاہیے۔قاضی صرف امور سیاسیہ میں اپنے علم کو کام میں لا سکتا ہے حدودِ شرعیہ میں نہیں۔کیونکہ حدودِ شرعیہ کی سزا خود خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہوئی ہے۔اسی طرح گواہی کا طریق بھی اس کا مقرر کردہ ہے۔اقرار کے متعلق بھی یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اقرار وہ ہے جو بغیر جبر اور تشدد کے ہو۔ورنہ پولیس کئی دفعہ مارپیٹ کر بھی اقرار کر وا لیتی ہے۔حالانکہ وہ اقرار صرف جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔پھر یہ اقرار ایک دفعہ کافی نہیں بلکہ چار دفعہ بغیر پولیس کے قاضی کے سامنے اقرار ہونا چاہیے۔اور اقرار بھی قسمیہ ہونا چاہیے۔تب اس کو حد لگے گی۔لیکن اگر ایسا شخص