تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 433

استعمال نہ کرنے کی وجہ سے شراب بنانے کی عادت اُن میں سے جاتی رہی اور بعدمیں تمام مسلمانوں کے اتفاق کے مطابق یہ حکم غیر ضروری ہو گیا۔اور اس قسم کے برتنوں کا استعمال سب مسلمانوں کے لئے جائز ہو گیا۔حدیثوں سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کا حکم محض یہودی احکام کی اتباع میں دیا تھا۔چنانچہ ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَوَّلُ مَنْ اَحْیَا اَمْرَکَ اِذَا اَمَاتُوْہُ فَاَمَرَ بِہٖ فَرُجِمَ ( مسلم کتاب الحدودباب رجم الیھود اھل الذمّۃ فی الزنٰی) یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ یہود نے یہ اقرار کیا کہ اصل میں تو ہمارے ہاں رجم کا ہی حکم ہے مگر بڑے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ہم نے رجم کا طریق ترک کر دیا ہے تو آپ نے وہ بات فر مائی جو ہم نے اوپر درج کی ہے اور جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ ! میں اس زمانہ میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے اس حکم کو جو تونے یہودیوں کو دیا تھا زندہ کردیا ہے حالانکہ خود یہودی جن کو یہ حکم دیا گیا تھا انہوں نے اس حکم کو ترک کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ نے اُس ملزم کو جو آپ کے سامنے لایا گیا تھا رجم کی سزا دی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا محض بائیبل کی اتباع میں دی تھی۔چنانچہ احادیث میں بیان شدہ ایک اور واقعہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی یہ بات سن کر غصّہ سے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔مگر وہ بار بار چکر کاٹ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہتا رہا کہ یا رسول اللہ میں نے زنا کیا ہے۔جب وہ چار دفعہ اقرار کر چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تُو پاگل ہے ! اُس نے کہا یا رسول اللہ ! نہیں۔آپ نے فرمایا کہ اچھا اسے سنگسار کر دیا جائے۔صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم اسے باہر لے گئے لیکن جب ہم نے اُسے پتھر مارنے شروع کئے تو وہ بھاگا۔ہم اُس کے پیچھے پیچھے دوڑے اور اُسے پکڑکر مارڈالا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اُس کا بھاگنا ہی اپنے اقرار سے رجوع کرنا تھا۔پھر تم نے اُسے کیوں نہ چھوڑ دیا(ابن ماجہ کتاب الحدود باب الرّجم)۔یہ حدیث بھی بتاتی ہے کہ رجم کا حکم خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتاتھا کہ خدا تعالیٰ تو یہ کہتا کہ رجم کرو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اُلٹ اپنے صحابہ ؓ سے یہ فرماتے کہ جب وہ بھاگا تھا تو تم نے اُسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔اگر رجم کا حکم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ تم نے اُسے مارا کیوں ؟ اس جگہ ایک لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ مفسرین حضرت ایوب ؑ کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ جب وہ