تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 430

پرانے علماء میں سے بھی ایک حصّہ ایسا ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ جَلْدُ مِائَۃٍ ہی اصل حکم ہے رجم قرآن کریم سے ثابت نہیں۔چنانچہ امام ابن حزم سورۂ نساء کی آیت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں اِنَّ الْاِ حْصَانَ اِسْمٌ یَقَعُ عَلَی الْحُرَّۃِالْمُطَلَّقَۃِ فَقَطْ۔فَاِنْ کَانَ ھٰذَا کَمَا قَالُوْا فَالنَّفْیُ وَاجِبٌ عَلَی الْآمَاءِ اَلْمُحْصَنَاتِ مِنْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ لِاَنَّ مَعْنَی الْآیَۃِ: فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَاعَلَی الْـحَرَائِرِ مِنَ الْعَذَابِ وَعَلَی الْـحَرَائِرِ ھُنَا مِنَ الْعَذَابِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَمَعَہُ نَفْیُ سَنَۃٍ اَوْ رَجْمٌ ، وَالرَّجْمُ لَا یَنْتَصِفُ اَصْلًالِاَنَّہُ مَوْتٌ وَ الْمَوْتُ لَا نِصْفَ لَہٗ اَصْلًا۔وَکَذٰلِکَ الرَّجْمُ لِاَنَّہٗ قَدْیَمُوْتُ الْمَرْجُوْمُ مِنْ رَمْیَۃٍ وَاحِدَۃٍ وَقَدْ لَایَمُوْتُ مِنْ اَلْفِ رَمْیَۃٍ وَمَا کَانَ ھٰکَذَا فَلَا یُمْکِنُ ضَبْطُ نِصْفِہٖ اَبَدًا وَاِذْ لَا یُمْکِنُ ھٰذَا فَقَدْ أَمِنَّا اَنْ یُّکَلِّفَنَا اللہُ تَعَالیٰ مَا لَا نُطِیْقُ لِقَوْلِہٖ تَعَالیٰ:( لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) وَلِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘‘ أَوْکَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَسَقَطَ الرَّجْمُ وَبَقِیَ الْجَلْدُ وَالنَّفْیُ سَنَۃٍ وَکِلَاھُمَا لَہٗ نِصْفٌ فَعَلَی الْأَمَۃِنِصْفُ مَاعَلَی الْحُرَّۃِ مِنْھَا (المحلّٰی لابن حزم مسألۃ حد الأمۃ المحصنۃ)۔یعنی احصان کا لفظ خالص آزاد عورت پر بولا جاتا ہے۔پس اگر لونڈیوں کی سزا آزاد عورتوں کی سزا سے نصف ہے تو لونڈیوں پر بھی جلاوطنی واجب ہوگی۔کیونکہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آزاد عورتوں کو جو عذاب دیا جائے گا اس سے نصف لونڈیوں کو دیا جائےگا۔اور آزاد عورتوں کے لئے جو عذاب بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو سوکوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے۔یا بقول بعض کے رجم کیا جائے اور رجم کسی صورت میں بھی آدھا نہیں ہو سکتا کیونکہ رجم درحقیقت موت کے ہم معنی ہے اور موت کو کسی صورت میں بھی آدھا نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح رجم کو بھی کسی صورت میں آدھا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جس پر پتھر مارے جاتے ہیں کبھی تو وہ ایک پتھر سے ہی مر جاتا ہے اور کبھی ہزار پتھر سے بھی نہیں مرتا۔پس جو چیز اپنے اختیار میں نہیں اس پر عمل کس طرح کیا جائے۔ہم کو کسی صورت سے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ شخص کتنے پتھروں سے مرے گا کہ اُس سے آدھے ہم ا س کو مار لیں اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا (البقرۃ :۲۸۷) وہ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جو انسان کی طاقت میں نہ ہو۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب میں تم کو کسی بات کا حکم دوں تو اس حکم پر اس حد تک عمل کرو جتنی تمہیں طاقت ہو یا اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں آپؐ نے ارشاد فرمایا۔پس ان الفاظ سے رجم کا حکم ساقط ہو گیا اور کوڑوں والا حکم اور ایک سال کی جلاوطنی کا حکم باقی رہا۔کیونکہ یہ دونوں حکم ایسے ہیں جن کا نصف ہو سکتا ہے لیکن رجم نصف نہیں ہو سکتا۔