تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 426

الرَّجْمَ فِی کِتَابِ اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَدْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ رَجَمْنَا بَعْدَہٗ وَ اِنِّی وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ لَوْ لَا اَنْ یَّقُوْلَ قَائِلٌ اَحْدَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی لَکَتَبْتُھَا ( کشف الغمّہ کتاب الحدود فی حد الزنا باب ما جاء فی رجم الزانی المحصن ) وَفِیْ رَوَایَۃٍ لَکَتَبْتُھَا عَلٰی حَاشِیَۃِ الْمُصْحَفِ (فتح القدیر شرح ہدایۃ کتاب الحدود فصل فی کیفیۃ اقامۃ الحدود) یعنی حضرت عمررضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو تم لوگوں کے مرنے کے بعد کوئی شخص یہ کہنے لگ جائے کہ ہم کو تو خدا کی کتاب میں رجم کا مسئلہ نہیں ملتا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا ہے۔اور مجھے خدا کی قسم اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ کوئی شخص یہ اعتراض کر دےگا کہ عمر ؓ نے خدا کی کتاب میں اپنے پاس سے زیادتی کر دی ہے تو میں یہ حکم بھی لکھ دیتا۔اور ایک روایت میں آیا ہے کہ میں یہ حکم قرآن کریم کے حاشیہ پر لکھ دیتا۔چونکہ یہ ایک عقلی اور نقلی مسلمہ اصول ہے کہ کسی روایت کی زیادتی اس کے معنوں کی اصل تشریح ہو تی ہے اس لئے ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ درحقیقت یہی زیادہ معتبر قو ل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خیال ظاہر کیا کہ میں قرآن کے حاشیے پر یہ عبارت لکھ دیتا۔اور قرآن کے حاشیہ پر اگر کوئی چیز لکھی ہو ئی ہو تو وہ قرآن نہیں بن جاتی پس حضرت عمر ؓ جو اس روایت کے مطابق اس کو حکم الٰہی سمجھتے تھے وہ بھی یہ جرأت نہیں کر سکے کہ اس کو قرآن کریم میں داخل کردیں۔حالانکہ اُس وقت قرآنی وحی کے بہت سے کاتب موجود تھے اور وہ اُن سے پوچھ سکتے تھے لیکن اُن سے نہ پوچھنا بھی بتا تا ہے کہ حضرت عمر ؓ کو یقین تھا کہ میرا یہ خیال صرف ایک وہم ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی جو آیتیں اُترتی تھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تب وحی کو بلوا کر وہ آیت اس جگہ پر لکھوا دیتے تھے جہاں اس آیت کا لکھوا یا جانا ضروری ہوتا تھا۔اگر یہ قرآن کی آیت ہوتی اور واقعہ میں یہ خدائی حکم ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کیوں نہ لکھواتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ سے یہی روایت تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور اس سے صاف ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کو جس شکل میں بھی تھا قرآن کریم کا حکم قرار نہیں دیا۔اُن کی روایت یہ ہے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا زَنَی الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ فَارْجِمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ ( محلّٰی ابن حزم کتاب الحدود مسألۃحد الحر و الحرۃ غیرالمحصنین ) یعنی میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جب کوئی بڑی عمر کا مرد یا بڑی عمر کی عورت زنا کریں تو ان کو رجم کر کے مار دو۔ان الفاظ سے ثابت ہے کہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے اس کو کبھی وحیٔ قرآنی قرار نہیں دیا۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیا ہے۔ممکن ہے حضرت عمر نے بھی یہی سنا ہو لیکن انہوں نے بجائے قول کے اس کو وحی سمجھ لیا ہو اور