تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 424
صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی شکل میں بد ل دی تھی۔یعنی آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ بجائے اس کے کہ کوڑے مارے جائیں رجم کرنا چاہیے (شرح فتح القدیر الجزء الرابع صفحہ ۱۲۵)۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو نہ صرف محولہ بالا آیتِ نور ہی منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ سورۂ نساء کی آیت بھی بالکل بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں صاف بتا یا گیا ہے کہ لونڈی کی سزا آدھی ہے اور رجم کا آدھا قیاس میں بھی نہیں آسکتا۔پس اس آیت کی صریح اور واضح مفہوم کے ہوتے ہوئے اور سورۃ نساء کی آیت کی تصدیق کی موجودگی میں یہ بات بغیر کسی شک اور شبہ کے کہی جا سکتی ہے کہ قرآن کریم میں زنا کی سزا آزاد عورت اور مرد کے لئے سو کوڑے ہیں اور لونڈی یا قیدی کے لئے پچا س کوڑے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ رجم کا دستور مسلمانوں میں کس طرح پڑا ؟ سو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بد کار عورت اور مرد کے متعلق رجم کا حکم دیا(بخاری کتاب الحدود باب رجم المحصن)۔پس اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں میں کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی صورت میں رجم کا حکم یقیناً تھا۔سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا رجم نے کوڑے مارنے کے حکم کو منسوخ کیا یا کوڑے مارنے کے حکم نے رجم کے حکم کو منسوخ کیا۔یایہ دونو ں حکم ایک وقت میں موجود تھے اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس حکم کے متعلق ناسخ اور منسوخ کا قاعدہ استعمال ہو اہے تو ہمارے اپنے عقیدہ کے رُو سے تو معاملہ بالکل صاف ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی منسوخ حکم قرآن کریم میں موجود نہیں۔قرآن کریم میں جتنے احکام موجود ہیں وہ سب غیر منسوخ ہیں۔اس عقیدہ کے رُو سے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر رجم کا کوئی حکم تھا تو اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا اور اس آیت نے اُسے منسوخ کر دیا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی اور حکم بعد میں نازل ہو ا اور اُس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔اور اگر کوئی حدیث اس کے خلاف ہے تو وہ مردو د ہے کیونکہ وہ قرآن شریف کو رد کرتی ہے۔نیز اگر یہ آیت منسوخ ہو گئی ہوتی تو پھر یہ قرآن سے نکال دی جاتی۔یہ جو بعض فقہاء نے مسئلہ بنایا ہو اہے کہ بعض آیتیں ایسی ہیں کہ تلاوتًا قائم ہیں اور حکماً منسوخ ہیں(الاتقان جزء اول صفحہ ۳۶) یہ نہایت ہی خلاف عقل۔خلافِ دلیل اور خلافِ آداب قرآنی ہے۔ہم اس مسئلہ کو ہر گز تسلیم نہیں کرتے۔ہمارے نزدیک اگر منسوخ آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں تو پھر سارے قرآن کا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔اس صورت میں ہمارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے کہ ہم فلاں آیت پر عمل کریں اور فلاں پر نہ کریں۔قرآن کریم کی سب سے بڑی عظمت تو یہی ہے کہ وہ ایک یقینی بنیاد پر قائم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ یقینی ہے۔اگر اس کے احکام کو بلکہ اس کی آیات کے قابلِ عمل ہو نے کو ہم علماء اور فقہاء کے قیاس کے ساتھ وابستہ کرد یں تو پھر تو وہ ایسا ہی مشکوک اور مبہم ہو جاتا ہے جیسا کہ علماء کے قیاس ہو تے ہیں۔اگر