تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 417

لیکن وہ لوگ جو کہ اصرار کے ساتھ قوم میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور بد گوئی کے عادی ہوں اُن کو یقیناً اس دنیا میں بھی سزا ملنی چاہیے اور آخرت میں بھی سزا ملے گی۔اللہ تعالیٰ ان کی بدیوں کو ظاہر کرکے اُن کو ذلیل کرے گا اور جس سزا کے وہ مستحق ہیں اس میں انہیں مبتلا کرےگا۔جب ایک شخص کا ظاہر نیک نظر آتا ہو تواُس کے متعلق بد باتیں قبول ہی نہیں کرنی چاہئیں۔جس طرح کہ بد آدمی کے متعلق نیک بات سُن کرانسان کو تعجب ہو تا ہے اور اُس کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتا۔( آیت ۲۴ تا ۲۷ ) پھر فرماتا ہے کہ انفرادی اخلاق پر اعتراضات بعض بے احتیاطیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور سب سے بڑی بے احتیاطی مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط ہے۔پس تم کو چاہیے کہ ان چیزوں سے بچنے کے لئے ایک دوسرے کے گھر آزادانہ نہ گھس جا یا کرو بلکہ پہلے اجازت لیا کرو۔اور گھر والوں پر سلام کیا کرو۔پھر اگر تمہیں تمہارے سلام کا جواب نہ ملے تو جب تک تمہیں اجازت نہ ملے اُس گھر میں داخل نہ ہو اور اگر گھر میں بعض افراد ہوں اور وہ تمہیں کہیں کہ چلے جائو اس وقت ہم نہیں مل سکتے تو پھر ملاقات پر اصرار نہ کرو۔ہاں ایسے گھرجن میں تمہارا اسباب پڑا ہوا ہے اور اُن میں کوئی رہتا نہیں اُن میں تم بلا اجازت جا سکتے ہو۔اور اگر مرد او رعورت کا آمنا سامنا ہو جائے تو ان کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو آنکھیں کھول کر نہ دیکھا کریں اور اُن تمام راستوں کی حفاظت کریں جن سے بدی انسانی قلب میں داخل ہوتی ہے۔یہی حکم عورتوں کے لئے بھی ہے جس طرح مردوں کے لئے ہے۔اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ بھی ایسے راستوں کو بند کریں جن کے ذریعہ سے بدی انسان کے اندر داخل ہوتی ہے اور اپنے جسم کے ایسے حصے جن کو خدا تعالیٰ نے خوبصورت بنایا ہے غیر محرموں پر ظاہر نہ کریں۔سوائے اس کے کہ کوئی حصہ آپ ہی آپ ظاہر ہو جائے ( جیسے قداور جسم کی بناوٹ وغیرہ ) اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیوں کو اپنے منہ کے اوپر سے کھینچ کر سینوں تک لے آئیں ( یعنی لمبا گھونگھٹ نکالیں ) اور اپنی زینت سوائے اپنے قریبی رشتہ داروں کے یا ایسے متعلقین کے جن کی فہرست دی گئی ہے اور کسی کو نہ دکھائیں۔( آیت ۲۸ تا ۳۲) اسی طرح چاہیے کہ قومی اخلاق کی درستی کے لئے بیوائیں قوم میں نہ رہنے دی جائیں بلکہ اُن کی شادی کر دی جائے۔اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں کی بھی شادی کی جائے۔اور شادی میں مالی کمزوری کو مدنظر نہ رکھا جائے۔اور جو شادی کر ہی نہ سکیں وہ اپنے اخلاق کی درستی کا خاص طور پر خیال رکھا کریں۔دوسرا طریقہ نیکی کے قائم رکھنے کا یہ ہے کہ جنگی قیدیوں کو آزاد کیا جائے۔پس اگر کوئی جنگی قیدی فوراً اپنی آزادی کی قیمت دینے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے ساتھ یہ معاہدہ کیا جائے کہ وہ قسط وار اپنا جرمانہ ادا کردے گا