تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 416

زمانۂ سورۃ یہ تو ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے۔اب اس کی معّین تاریخ کا سوال رہ جاتا ہے۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ اس سورۃ میں جو حضرت عائشہ ؓ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے یہ ۵ ؁ہجری کا ہے۔بنو مصطلق کی جنگ سے واپسی کے وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا اور بنو مصطلق کی جنگ شعبان ۵ ؁ ہجری میں ہوئی تھی۔(البدایۃ والنھایۃ غزوۃ بنی المصطلق بن خزاعۃ)پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سورۃ پانچویں سال ہجری کے آخری مہینوں میں اُتری ہے۔خلاصہ سورۃ اس سورۃ میں خاص احکام بیا ن کئے گئے ہیں۔اور ایسے امور بیان کئے گئے ہیں جن سے قوم ترقی کر سکتی ہے۔(آیت ۱،۲) بدکاری قومی نظام کو توڑ دیتی ہے اور اُس کی شہرت قومی اخلاق کو بگاڑ دیتی ہے۔ان دونوں باتوں سے بچنا چاہیے۔(آیت ۳ تا ۶) پھر فرماتا ہے اگر میاں بیوی میں بدظنی پیدا ہو تو چونکہ اُس کا اثر خاندانی تعلقات پر پڑتا ہے اس لئے اس کا قانون دوسروں سے مختلف ہونا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ بجائے غیر گواہوں کے ذاتی قسموں کے ذریعہ سے اُ ن کا تصفیہ کروایا جائے۔(آیت ۷ تا ۱۱) پھر فرمایا کہ بعض دفعہ خرابی کے انفرادی واقعات قوم کے لئے مفید ہو جاتے ہیں۔کیونکہ قوم اُن کی وجہ سے بیدار ہو جاتی ہے پس ایسی باتوں سے چڑنا نہیں چاہیے بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہی بات کہی جائے جو قانونی گواہی کی حد تک دلیل رکھتی ہو۔ورنہ وہ بات زبان پر نہ لائی جائے۔کیونکہ اگر محض بد ظنی یا محض کمزور گواہوں پر ایک دوسرے کے خلاف الزام لگائے جائیں تو قوم میں گناہ بہت بڑھ جاتا ہے اور نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ ہماری قوم میں یہ بدی کثرت سے پائی جاتی ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔(آیت ۱۲ تا ۲۱) پھر فرماتا ہے کہ اے مومنو ! اخلاق کی حفاظت بڑی ضروری چیز ہے ایسے تمام کام جو معیار ِ اخلاق کو قوم میں کمزور کر دینے والے ہوں شیطانی کام ہیں۔اور قومی اخلاق کو قائم رکھنے کے لئے بڑی بیداری کی ضرورت ہے اگر انسان اس بیداری کو کھو بیٹھے تو قوم کے اخلاق گِر جاتے ہیں۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر قوم میں سے بعض افراد بعض دفعہ غلطی کر بیٹھیں تو محض اس لئے کہ وہ فعل اگر بڑھ جائے تو قوم کی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے اُن کو پیسنے اور کچلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ قوم میں سے بعض کے اخلاق کمزور بھی ہو تے ہیں۔ایسے لوگوں کی اصلاح بہت عفو سے کرنی چاہیے۔(آیت ۲۲، ۲۳ )