تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 403
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ۔الرَّحِيْمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔یعنی اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے رحمٰن ہے رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ سورۂ فاتحہ میں ترتیب بدل دی گئی ہے۔اس آیت میں جو صفت پہلے بیان کی گئی تھی سورۂ فاتحہ میں اُسے آخر میں رکھ دیا ہے اور پھر اسی ترتیب سے تمام صفات کو درجہ بدرجہ بیان کیا ہے۔چنانچہ دیکھ لو اس آیت میں جو اَلْمَلِکُ آیا ہے یہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔الحق صفتِ رحیمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ صفت رحمانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ صفت رب العالمین کی طرف اشارہ کرتا ہے۔گویا اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًاوَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ میں تو چار صفات بطور منبع کے بیان کی گئی ہیں۔یعنی وہ صفات جنہوں نے دنیا کی پیدائش کا تقاضا کیا۔لیکن ان کے نتیجہ میں جب انسان کو پیدا کیا گیا تو بندوں کے تعلق کے لحاظ سے وہی چار صفات ایک دوسرے رنگ میں ظاہر ہو گئیں۔گویا تختِ شاہی کے مالک بلند شان والے مہربان رب کی طرف سے جب دنیا پیدا ہوئی تو وہ دنیا کے لحاظ سے رَبُّ الْعَالَمِیْنَ بن گیا۔پھر توحید کامل نے جب اپنا جلوہ دکھانا چاہا تو وہ انسانوں کے لئے رحمانیت کی صفت میں ظاہر ہوئی اور دنیا کی ہر ضرورت کو اس نے پورا کرکے بتا دیا کہ سوائے اس کے اور کوئی خدانہیں۔پھر اَلْحَقُّ کی صفت نے جب ظہور چاہا۔جو سچ وعدے کرنے والی اور دنیا کو قائم رکھنے والی ہے تو اُس نے رحیمیت کی شکل میں اپنا جلوہ دکھایا۔پھرملکیت نے چاہا کہ وہ کوئی قانون جاری کرے اور جب اُس نے قوانین جاری کئے تو اُس نے کہا۔اب میں ہر ایک سے حساب لوںگا کہ اُس نے قانون کی کس حد تک پیروی کی ہے۔اور وہ مالک یوم الدین کی صورت میں ظاہر ہوا۔پس یہ چار صفات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں یہ سورہ فاتحہ کی چار صفات کے لئے بطور منبع ہیں۔مگر سورۂ فاتحہ میں جو ترتیب رکھی گئی ہے وہ اس سورۃ کے لحاظ سے موزوں تھی اور جو اس جگہ ترتیب رکھی گئی ہے یہ پیدائش ِ عالم کے لحاظ سے موزوں ہے۔یعنی ملک نے جب اپنی جلوہ گری کی تو مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کی صفت انسانوں کے لئے ظاہر ہوئی کیونکہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کے معنے ہیں جزا سزا کے دن کا مالک اور جزا سزا اُس وقت تک مترتّب نہیں ہو سکتی جب تک مَلِک کی طرف سے پہلے کوئی قانون نہ ہو۔پس مالک یوم الدین نتیجہ ہے ملکیت کا۔اسی طرح توحید نے جب اپنا ظہور چاہا تو اس کی رحمانیت کی صفت ظاہر ہوئی۔کیونکہ الرحمٰن کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہر مخلوق کی جائز ضرورت کو پورا کرتا ہے خواہ اُس نے کوئی کام کیا ہو یا نہ کیا ہو۔اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ایک ہی خدا ہو۔اگر پانی کسی خدا نے دینا ہے اور روٹی کسی نے تو توحید کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔لیکن جب ہم اپنی ہر ضرورت خدا تعالیٰ سے پوری ہوتی دیکھیں تو پھر ہماری عقل کہتی ہے کہ اُس کے سوا کسی اور خدا کی ضرورت نہیں۔پس رحمانیت کی صفت توحیدِ الٰہی