تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 402

یا ہاتھ رکھ کر اوپر سے تھپکتے جا تے ہیں اور اس طرح ریت کے مکان بنا لیتے ہیں۔مگر گھر آتے وقت لات مار کر انہیں گِرا دیتے ہیں۔فرماتا ہے۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے بھی دنیا کو بچوں کے کھیل کی طرح پیدا کیا ہے۔یعنی ہم انسان کو پیدا کرتے اور کچھ عرصہ کے بعد اُسے مار دیتے ہیں۔گویا بچے کی کھیل تو گھنٹہ دو گھنٹے کی ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی کھیل چند سالوں کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَعَالَی اللہُ۔تم تو ایک عقلمند انسان کی طرف بھی ایسی بات منسوب نہیں کرتے۔وہ اگر کھیلے بھی تو اس کے کھیلنے کا وقت کام کے وقت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا اور پھر بڑی عمر کا آدمی جب کوئی مکان بناتا ہے تو اُسے توڑتا نہیں۔سوائے اس کے کہ اُس میں کوئی نقص ہو یا اُس سے بہتر عمارت بنانے کا اُسے خیال ہو۔مگر خدا تعالیٰ کے کام میں تو کوئی نقص بھی نہیں ہوتا۔پھر وہ جو تمام عقلوں کا پیدا کرنے والا او ر علّو شان رکھنے والا ہے اس کے متعلق تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ کھیل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کئی ایسے فلسفی موجود ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ یہ دنیا خدا تعالیٰ کی ایک کھیل ہے۔خدا تعالیٰ تنہائی سے گھبرایا تو اُس نے کہا آئو کوئی شغل جاری کریں اور اُس نے انسان کو پیدا کر دیا۔کوئی انسان مرتا ہے تو وہ ہنستا ہے جس طرح بچہ کھلونے کو توڑ کر ہنس دیتا ہے۔اُس کے ماں باپ اس پرناراض ہو رہے ہوتے ہیں اور وہ قہقہہ لگا رہا ہوتا ہے۔اسی طرح جب کوئی انسان مرتا ہے تو لوگ تو رو رہے ہوتے ہیں مگر خدا نعوذ باللہ ہنستا ہے کہ کیا خوب گلا گھونٹا گیا۔اسی طرح جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں دردزِہ کی شدت سے کراہ رہی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ نعوذباللہ ہنس رہا ہوتا ہے۔پھر کئی لوگ ایسے ہیں جو گو منہ سے تو یہ نہ کہتے ہوں لیکن اُن کے اعمال کے پس پشت یہ خیال ضرور موجود ہوتا ہے وہ سوچتے ہیں کہ ہم دنیا میں کیوں آئے ؟ اور پھر خیال کر لیتے ہیں کہ یونہی آگئے ہیں۔جو لوگ اپنی زندگیوں کا کوئی روحانی مقصد نہیں سمجھتے اُن پر اگر جرح کرکے دیکھو تو اُن کا یہی عقیدہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ نعوذ باللہ کھیل رہا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَعَالَی اللہُ۔اللہ تعالیٰ بہت بلند شان والا ہے۔اُس نے دنیا کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ کی چار صفات تھیں جنہوں نے دنیا کی پیدائش کا تقاضا کیا وہ صفات اپنا ظہور چاہتی تھیں اور اُن صفات کے ظہور کے لئے ہی اُس نے دنیا کو پیدا کیا۔وہ چار صفات کیا ہیں۔اَلْمَلِکُ۔اَلْحَقُّ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۔اور رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ۔فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ مَلک ہے اُس کی ملکیت چاہتی تھی کہ وہ ظاہر ہو۔وہ الحق ہے اُس کا حق ہونا چاہتا تھا کہ وہ ظاہر ہو۔وہ لَا اِلَہَ اِلَّاھُوَ کا مصداق ہے اُس کی توحید چاہتی تھی کہ وہ ظاہر ہو۔اور وہ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ہے اُس کا رب العرش الکریم ہونا چاہتا تھا کہ وہ ظاہر ہو۔یہ چار صفات چونکہ اپنا ظہور چاہتی تھیں۔اس لئے اُس نے دنیا کو پیدا کر دیا ،ان چاروں صفات پر غور کرکے دیکھو تو درحقیقت یہ وہی صفات ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے