تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 401

اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ۔یعنی اے لوگو ! کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تم کو بغیر کسی غرض کے پیدا کیا ہے کہ تم نے اپنی عمریں ضائع کرنی شروع کر دیں۔اور یہ خیال کرتے رہے کہ تم لوٹ کر ہمارے پاس نہیں آئو گے تاکہ اپنی زندگی کی روشن اور تاریک گھڑیوں کا ہمیں حساب دو۔حالانکہ اگر تمہارا خیال ٹھیک ہوتا تو خدا تعالیٰ کی توحید اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت ثابت نہ ہوتی۔خدا تعالیٰ کی توحید اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت تبھی ثابت ہو سکتی ہے جبکہ دنیا ایک مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہواور اگر کوئی شخص اُس مقصد کو پورا نہ کرے اور ہنسی کھیل میں اپنے دن گذار دے تُو اُس سے جواب طلبی کی جائے۔اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا کیا تم یہ سمجھا کرتے تھے کہ ہم نے تم کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے ؟ا ور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے۔تُرْجَعُوْنَ۰۰۱۱۶فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ پس اللہ بڑی بلندشان والا۔بادشاہ اور قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ عرش کریم رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ۰۰۱۱۷ کا رب ہے۔تفسیر۔اس آیت میں بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اپنی پیدائش کے مقصد پر غور کرو اور سوچو کہ کیا ہم نے دنیا کو بلا وجہ پیدا کیا ہے۔یا کیا یہ ایک کھیل اور تماشہ ہے جو تمہیں دکھائی دے رہا ہے کیاتم یہ سمجھتے ہو کہ جس طرح بچے کھلونے بناتے اور پھر اُسے توڑ پھوڑ دیتے ہیں اسی طرح ہم بھی کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کرتے اور پھر ہلاک کر دیتے ہیں اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے ؟ فرماتا ہے یہ بالکل احمقانہ خیال ہے۔اسے ہماری طرف منسوب کرنا بھی ہماری ہتک ہے کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تم نے بچہ بنا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند ہے وہ کامل الصفات خدا ہے اُس کے متعلق یہ تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بچوں کی طرح کھیل رہا ہے اور دنیا کو پیدا کرتا اور اُسے تباہ کرتا رہتا ہے۔نہ اس کا کوئی مقصد ہے نہ مدعا۔جیسے بچے ریت کے میدانوں میں جاتے ہیں تو اوپر کی خشک ریت ہٹا کر نیچے سے گیلی ریت نکال لیتے ہیں اور اُس میں پائوں