تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 400

یہ عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ میں جن سے خفا ہوتا ہوں اُن سے کلام نہیں کرتا بلکہ اُن کواپنے ساتھ بولنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔مگر مسلمانوں پر بد قسمتی کا وہ زمانہ آیا کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ امت مسلمہ سب اُمتوں سے افضل ہے اس لئے اب اس کے کسی فرد کے ساتھ خدا تعالیٰ کلام نہیں کرے گا۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ۰۰۱۱۳ پھر وہ (یعنی خدا) فرمائےگا کتنے سال تم زمین میں رہے ہو ؟ وہ کہیں گے ہم ایک ہی دن یا دن کا کچھ حصہ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ۰۰۱۱۴ زمین میں رہے ہیں۔تو گننے والوں سے پوچھ لے۔(اس پر خدا تعالیٰ )فرمائےگا۔اگر تم سمجھ سے کا م لو تو قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۱۱۵ تم بہت تھوڑا عرصہ رہے ہو۔حلّ لُغَات۔یَوْمٌ۔یَوْمٌ اس کے معنے مطلق وقت کے ہوتے ہیں۔جیسا کہ شاعر کہتا ہے ع یَوْمَا ہٗ یَوْمُ نَدًی وَیَوْمُ طِعَانِ یعنی میرے ممدوح پر دو ہی قسم کے وقت آتے ہیں یا تو وہ سخاوت میں مشغول ہوتا ہے یا دشمنوں کے قتل کرنے میں۔اور اس کے معنے اَلدَّھْرُ یعنی زمانہ کے بھی ہیں (لسان العرب ) تفسیر۔فرماتا ہے۔اُس وقت خدا تعالیٰ کفار سے کہے گا کہ بھلا بتائو تو سہی کہ تم دنیا میں کتنے سال رہے ؟ وہ کہیں گے کہ کچھ نہیں کوئی ایک دن یا دن کا کچھ تھوڑا سا حصہ۔یہ فقرہ ناواقفیت کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے چنانچہ اسی آیت کے آخر میں کہا گیا ہے کہ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ۔تُو گننے والوں سے پُوچھ لے اور اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ اگر تم کو حقیقی علم ہو تو تم بہت تھوڑا عرصہ دنیا میں رہے ہو۔ان الفاظ کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کفار اپنی زندگی ہنسی کھیل میں گذار دیتے ہیں اور ہنسی کھیل میں گذرا ہوا وقت بہت تھوڑا معلوم ہوتا ہے۔اسی وجہ سے آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ۔فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ