تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 399

ظٰلِمُوْنَ۰۰۱۰۸قَالَ اخْسَـُٔوْا فِيْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ۰۰۱۰۹اِنَّهٗ كَانَ ( دور ہو جائو اور) دوزخ میں چلے جائو اور مجھ سے کلام مت کرو۔بات یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے ایک گروہ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ایسا تھا جو کہتا تھا کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں سو تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَۚۖ۰۰۱۱۰فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيًّا اور تُو سب رحم کرنے والوں میں سے اچھا ہے۔مگر تم نے اُن کو ہنسی مذاق کا مورد بنا لیا یہاں تک کہ انہوں نے (تمہاری حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ۰۰۱۱۱ دلچسپی کا سامان بن کر) تم کو میری یاد بھُلا دی۔اور تم اُن سے ہمیشہ ہنسی کرتے رہے۔اُن کے صبر کرنے کی وجہ سے اِنِّيْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰۱۱۲ میں آج اُن کو( مناسب حال) بدلہ دوں گا۔یقیناً وہ کامیاب ہوں گے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے بغیر حجت پورا کئے تو تم پر عذاب نازل نہیں کیا۔مگر تم لوگ تو حجت پورا ہونے پر بھی انکار کرتے رہے۔جب کافر یہ بات سُنیں گے تو کہیں گے۔اے خدا ! بدبختی نے ہم کو گھیر لیا اور ہم گمراہ ہو گئے۔تو ایک دفعہ اس موجودہ حالت سے ہم کو نکال دے اگر ہم نے پھر وہی پہلے سے کا م کئے تو بے شک ہمارے ظالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوگا۔پھر جو چاہیں سزا دے لیں۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائےگا کہ میرے سامنے سے دُور ہو جائو اور دوزخ میں داخل ہو جائو اور مجھ سے کلام مت کرو۔ایک وہ وقت تھا کہ میرے مومن بندے جب یہ کہا کرتے کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ہیں۔پس ہم کو معاف کردے اور ہم پر رحم کر اور تُو سب رحم کرنے والوں میں سے اچھا ہے تو تم اُن کی نیکی کے باوجود اُن سے ہنسی مذاق کرتے تھے اوراس میں تم کو اتنا لطف آتا تھا کہ تمہیں خدائی گرفت کا بھی کچھ خیال نہ رہا اور تم ان بے کسوں پر خوب قہقہے لگاتے تھے۔آج میں نے اُن کے صبر کی جزا ان کو دے دی ہے۔یعنی ان کو غلبہ بخش دیا ہے اور انہوں نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔