تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 398
دوسرے سے کوئی سوال کرے گا۔اس جگہ صُور کے ایک معنے تو اَلْقَرْنُ یعنی بگل کے ہیں جو فوج کو جمع کرنے کے لئے بجایا جاتا ہے اور جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسا دن ہوگا جب تمام کفار کو جواب دہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائےگا۔لیکن چونکہ صُوْرَۃٌ کی جمع بھی صُور آتی ہے اس لئے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ جب انسانی صورتوں میں رُوح پُھونکی جائےگی اور وہ زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ اگلے جہان میںکوئی نہ کوئی جسم انسان کو ضرور ملےگا۔خواہ وہ یہ مادی جسم نہ ہو جو انسان کو اس دنیا میں ملا ہو اہے۔فَلَاۤ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ میں یہ بتایا کہ اُس دن کسی دوسرے کی مدد کام نہیں دےگی بلکہ انسان کے اپنے ہی اعمال اُس کے کام آئیں گے۔اگر نیک اعمال زیادہ ہوئے تو انسان نجات پا جائےگا اور اگر نیک اعمال کم ہوئے تو وہ گھاٹے میں پڑے گا۔وَ لَا يَتَسَآءَلُوْنَ۠میں یہ بتایا کہ اُس دن ایک دوسرے کے متعلق لوگوں کو کوئی تجسس نہیں ہوگا بلکہ ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہو گی اور کسی دوسرے کی طرف اُسے کوئی توجہ نہیں ہو گی۔تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ میں یہ بتا یا کہ کفار کے سردار بھی عذاب میں مبتلا ہوںگے وَجْہٌ کے ایک معنے سردار کے بھی ہوتے ہیں اور وہ اس عذاب پر دانت پیسیں گے۔یعنی اپنی کوتاہی پر حسرت اور افسوس کریں گے مگر اُس وقت اُن کا افسوس کرنا اُن کو کوئی فائدہ نہیں دےگا۔اَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ۰۰۱۰۶ (اور کہا جائےگا) کیا تمہارے سامنے میری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ اور تم ان کا انکار نہیں کرتے تھے ؟ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا وہ کہیں گے۔اے ہمارے رب ! ہماری بد قسمتی ہم پر غالب آگئی اور ہم ایک گمراہ جماعت تھے۔اے ہمارے رب! ضَآلِّيْنَ۰۰۱۰۷رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ہمیں اس (دوزخ )سے نکا ل۔اگر ہم (ان گناہوں کی طرف) پھر لوٹیں تو ہم ظالم ہوںگے۔(خدا) فر مائےگا