تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 394
میں ہی تیرے دشمنوں کو تباہ کر دیں جیسا کہ عملاً ہوا کہ مکہ آپ کی زندگی میں فتح ہوگیا اور کفار کی طاقت تباہ ہوگئی اور حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں آگئی اور پھرحضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں تو اس حکومت نے اور بھی ترقی کی اور قیصرو کسریٰ کی حکومتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا تو اُن کی بری باتوں کو ایسی (جوابی) باتوں سے دور کر جو نہایت خوبصورت ہوں۔ہم ان کی يَصِفُوْنَ۰۰۹۷ باتوں کو خوب جانتے ہیں۔تفسیر۔اس جگہ یہ سکھایا گیا ہے کہ دشمن اگر چہ ظالم ہے مگر تو پھر بھی اس کے مقابلہ میں احسان اور عفو سے کاملیجئو۔کیونکہ برائی کے بدلہ میں نیکی کرنا اولوالعزم انبیاء کا کام ہے اور تیرے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ دشمن نے تو ظلم بھی کر لیا اور پھر میرے عفو سے سزا سے بھی بچ گیا۔ایسا نہ ہو کہ وہ پھر کوئی شرارت کرے کیونکہ میں اس کی ہر تدبیر کو جانتا ہوں اور کوئی چیز بھی میری جزا سزا سے باہر نہیں رہ سکتی۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ( حٰمٓ السجدۃ :۳۵)یعنی تُو دشمن کی برائی کا جواب نہایت نیک سلوک سے دے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ شخص جس سے تیری عداوت ہے وہ تیرے اس حسنِ سلوک کو دیکھ کر شرمندہ ہوگا اور وہ تیرا گرم جوش دوست بن جائےگا۔گویا بتا یا کہ سزا آخر اس لئے دی جاتی ہے کہ انسان دوسروں کے ضرر سے بچ جائے اور اُسے اپنی اصلاح کا خیال آئے۔لیکن دوسرے کے ضرر سے بچنے کا صرف یہی طریق نہیں کہ اُس کو سزا دی جائے بلکہ اگر عفو سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہو تو بہتر یہی ہے کہ اس کو معاف کر دواور اس بات سے مت گھبرائو کہ اس کا کوئی خراب نتیجہ نکلے گا۔کیونکہ دوسرا شخص اس سلوک سے متاثر ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتا اُسکی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی اور وہ تمہاری دوستی اور محبت کا دم بھرنے لگے گا۔